خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 185
خطبات مسرور جلد ہشتم 185 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اپریل 2010 جس کے دائمی رہنے کی آنحضرت صلی الی یوم نے پیشگوئی فرمائی تھی تقویٰ پر چلنا بھی شرط ہے۔اللہ تعالیٰ نے خلافت سے فیض پانے کے لئے ایمان اور اعمالِ صالحہ کی شرط کو رکھا ہے۔ایمان کی مضبوطی تبھی ہوتی ہے جب خدا تعالیٰ کا خوف اور خشیت دل میں ہو۔اعمالِ صالحہ کی بجا آوری کی طرف توجہ تبھی ہو گی جب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی ال نیم کی کامل اطاعت کا جوا اپنی گردن میں ڈالنے کی ہماری کوشش ہو گی۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔یایھا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ (آل عمران: 103) اے مومنو! اللہ کا تقویٰ اس کی تمام شرائط کے ساتھ اختیار کرو۔اور تم پر ایسی حالت میں موت آئے کہ تم پورے فرمانبر دار ہو۔پس یہ وہ انتہا ہے جس کے حصول کے لئے ہمیں کوشش کی ضرورت ہے۔ایک حقیقی مسلمان کی توجہ خاص طور پر اس امر کی طرف کروائی گئی ہے کہ زندگی کے مقصد کا حصول بغیر تقویٰ کے نہیں ہو سکتا۔تمہاری عبادتیں کرنے کی تمام کوششیں، تمہارے حقوق العباد ادا کرنے کی تمام کوششیں، تمہارے زمانے کے امام کی بیعت میں آنے کے دعوے، تمہارے خلافت سے وفا کے تعلق کا اعلان اور تمہارا اطِیعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ (النساء: 60) کا دعوی اس وقت حقیقی کہلائے گا جب تمہارے دل میں تقویٰ ہو گا۔پس ایک حقیقی مومن جہاں اپنے غیر صالح اعمال کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی پکڑ اور گرفت سے خوفزدہ رہتا ہے، وہاں اسے یہ امید بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بڑی وسیع ہے اس کے آگے میں جھکوں گا، اس سے دعا کروں گا اس کے فضل کو مانگوں گا تو اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت میری اس عاجزی کو جذب کرنے والی بن جائے گی اور یہ دونوں صورتیں جو ہیں یہ اس وقت ایک مومن کے سامنے رہتی ہیں جب اسے یہ یقین ہو کہ خدا سب طاقتوں کا مالک ہے۔جب خدا تعالیٰ کو سب طاقتوں کا مالک سمجھا جائے گا تو پھر ہمارے قدم بھی اس کی طرف بڑھیں گے۔اس کے احکامات پر عمل کرنے کی کوشش ہو گی۔تقویٰ کے حقیقی مفہوم کو سمجھنے کی کوشش ہو گی۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ ﷺ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کے فرمانبردار رہو۔کبھی اس کی نافرمانی نہ کرو۔ہمیشہ اس کے شکر گزار رہو، کبھی اس کی ناشکر گزاری نہ کرو۔ہمیشہ اسے یاد رکھو اور اسے کبھی نہ بھولو۔(الدر المنثور فی التفسیر الماثور - جلد 2 صفحہ 267 تفسیر سورۃ آل عمران زیر آیت) پس اگر اس نصیحت پر ہم عمل کریں گے تو ہماری نمازیں بھی قائم رہیں گی۔ہم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بھی بنے رہیں گے اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ بھی رہے گی۔نظام خلافت سے جڑے رہنے کی برکات کا جو خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے اس سے بھی فیض پاتے رہیں گے۔اللہ تعالیٰ یہ حق ادا کرنے اور یہ فرض ادا کرنے کی ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ (آل عمران: 103) اور اس وقت تک