خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 125 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 125

خطبات مسرور جلد ہشتم 125 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 مارچ 2010 حارج ہوں“۔یعنی ایسی مشکلات جن سے دینی امور میں حرج آتا ہو ان سے اللہ تعالیٰ نجات دلاتا ہے۔”ایسا ہی اللہ تعالیٰ متقی کو خاص طور پر رزق دیتا ہے“۔فرمایا کہ ”یہاں میں معارف کے رزق کا ذکر کروں گا۔آنحضرت کو باوجود اقی ہونے کے تمام جہان کا مقابلہ کرنا تھا۔جس میں اہل کتاب، فلاسفر ، اعلیٰ درجہ کے علمی مذاق والے لوگ اور عالم فاضل شامل تھے لیکن آپ کو روحانی رزق اس قدر ملا کہ آپ سب پر غالب آئے اور ان سب کی غلطیاں نکالیں۔یہ روحانی رزق تھا جس کی نظیر نہیں“۔( رپورٹ جلسہ سالانہ 1897ء صفحہ 35-34۔تفسیر حضرت مسیح موعود جلد 4 صفحہ 401 زیر آیت سورۃ الطلاق:4) قرآن کریم۔روحانی مائده قرآنِ کریم کی صورت میں جو روحانی مائدہ آنحضرت صلی اللہ تم پر اترا اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔یہ قرآنِ کریم کا چیلنج ہے کہ اس جیسی ایک سورۃ بھی کوئی نہیں بنا سکتا۔چاہے وہ چھوٹی سورۃ ہی کیوں نہ ہو۔یہ ایک ایسا رزق ہے اور ایک ایسا علمی اور روحانی خزانہ ہے جو آنحضرت صلی ای کم کو دیا گیا۔جس نے نہ صرف آپ صلی ایم کی زندگی میں دنیا کے منہ بند کرنے کے نشان دکھائے بلکہ تا قیامت یہ زندہ جاوید کتاب ہے جس میں ایک پڑھنے والے پر، غور کرنے والے پر، تفکر کرنے والے پر ہر نئی ایجاد اور ہر نئے علم کے راستے کھلتے چلے جاتے ہیں۔بشر طیکہ غور کرنے کی نظر ہو۔جو علم آنحضرت صلی علی کرم کو دیا گیا اس میں سے بعض باتیں تو ایسی تھیں جو قرآنِ کریم میں بیان ہوئی ہیں۔اس وقت تو اُن تک صحابہ کی سوچ بھی نہیں پہنچ سکتی تھی۔اس لئے بعض باتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہیں ابھی یہ سمجھ نہیں کہ کون کون سے علمی خزانے ہیں جو حضرت محمد رسول اللہ صلی علیم کو دیئے گئے ہیں۔مثلاً ایٹم کے بارے میں اس زمانے کے عام مومن تو کیا بڑے بڑے کبار صحابہ جو تھے ، اُن کا تصور بھی نہیں تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ایٹم کی خوفناکیوں کے بارے میں آپ صلی ی ی یکم کو علم عطا فرمایا جس کا نام قرآنِ کریم نے حُطَمَة رکھا ہے۔اور فرمایا وَ مَا ادريكَ مَا الْحُطَمَةُ ( الهمزة: 6) اور تجھے کیا معلوم ہے کہ حُطَمَة کیا ہے۔اب یہ صحابہ کو مخاطب کیا گیا ہے۔پھر فرمایا کہ یہ ایسی چیز ہے جو دلوں تک پہنچتی ہے۔یعنی پہلے دل متاثر ہوتے ہیں پھر باقی جسم پر اثر ہوتا ہے۔جاپان میں ناگا ساکی میں بھی ایک میوزیم بنایا ہوا ہے۔جہاں ایٹم بم پڑا تھا۔جس میں ایٹم بم پڑنے کے وقت لوگوں کی جو حالت تھی اس کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔جو شخص جہاں بیٹھا ہے وہیں بیٹھارہ گیا۔دل بند ہو گیا اور اسی حالت میں رہا اور پھر اسی بیٹھی ہوئی حالت میں یا لیٹی ہوئی حالت میں یا کھڑے ہونے کی حالت میں جسم پر جو کھال وغیرہ ہے وہ پگھل گئی ہے اور لٹک رہی ہے۔بہر حال یہ ایک مثال ہے اور ایسی کئی مثالیں مل جاتی ہیں۔جو جو سائنسی ایجادیں ہو رہی ہیں ان کے بارہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ قرآنِ کریم کی برتری کو ثابت کرتی ہیں۔آنحضرت صلی ایم کے مقام اور آپ کی علمی اور روحانی برتری کو یہ چیزیں ثابت کرتی ہیں۔آنحضرت صلی یم کے