خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 78
خطبات مسرور جلد ہشتم 78 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 فروری 2010 زمانے میں پائے جاتے ہیں جن کا مقصد علم پھیلانا نہیں ہو تا بلکہ اپنی علمیت کا رعب ڈالنا ہو تا ہے۔تقویٰ سے عاری ہوتے ہیں۔آجکل کے علماء کا بھی یہ حال ہے۔اُس زمانہ میں بھی تھا کہ دوسروں پر اپنا علمیت کا رعب ڈالا جائے۔پردہ کا حکم آج کل مختلف ٹی وی چینلز آتے ہیں۔اور ان میں یہ لوگ نظر آتے ہیں۔اس حوالہ سے میں سب احمدیوں سے اور خاص طور پر نوجوانوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آج کل جو مختلف ٹی وی پروگرام آرہے ہیں ان کے حوالوں سے متاثر نہ ہو جایا کریں۔مثلاً پچھلے دنوں میں پاکستان میں ایک ٹی وی چینل پر ایک عالم نے نوجوانوں کو اپنے ساتھ لگانے کے لئے ، اپنی طرف کھینچنے کے لئے ایک یہ شوشہ چھوڑا کہ قرآن کریم میں کہیں نہیں لکھا ہوا کہ عورتوں کے لئے پر دہ ضروری ہے ، یہ تو صرف نبی کی بیویوں کے لئے تھا۔حالانکہ قرآن کریم میں سورۃ احزاب میں جہاں نبی کی بیویوں کے لئے حکم ہے وہاں عام مومنوں کے لئے بھی حکم ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ی ياَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَ بَنْتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ (الاحزاب:60 ) کہ اے نبی اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی بیویوں سے کہہ دے کہ جب وہ باہر نکلا کریں تو اپنی چادر سروں پر گی پر گھسیٹ کر اپنے سینوں تک لے آیا کریں۔اب اس میں بھی بعض لوگوں نے تاویلیں نکالنی شروع کر دی ہیں کہ چادر سروں سے گھسیٹ کر سینوں پہ لانے کا مطلب یہ ہے کہ اگر سر ننگا بھی ہو جائے تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔اور اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ عموماً مسلمان ملکوں میں اب نہ سر کا پردہ رہا ہے نہ ہی باقی جسم کا پردہ رہا ہے۔اس کی وجہ سے یہاں یورپ میں تو ایک رد عمل ہے جو پردہ کے خلاف بعض جگہ مہم کی صورت میں ظاہر ہو تا ہے۔اور یہی عالم صاحب جو ہیں، میں نے خود تو ان کا پروگرام نہیں سنالیکن میں نے سنا ہے کہ انہوں نے ایک یہ بھی شوشہ چھوڑا ہے کہ قرآن کریم سے کہیں ثابت نہیں ہو تا کہ اب خلافت کی ضرورت ہے یا یہ کہ خلافت قائم رہے گی۔ہاں بلاشبہ ان لوگوں کے لئے تو نہیں ہے کیونکہ جو لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے والے نہیں ہیں، زمانہ کے امام کو ماننے والے نہیں ہیں ، نہ ان میں خلافت قائم ہو سکتی ہے اور نہ ہی ان کو وہ برکات حاصل ہو سکتی ہیں جو اس سے وابستہ ہیں۔بہر حال یہ تو ضمناً ایک ذکر آگیا۔اگلا واقعہ بھی حضرت خلیفۃ المسیح الاول کا ہی ہے۔عبد القادر صاحب سابق سوداگر مل نے بیان کیا ہے کہ ایک مرتبہ آپ کہیں لاہور تشریف لائے۔( یہ پہلے کی بات ہے) ڈاکٹر محمد اقبال صاحب ان دنوں گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھتے تھے۔کالج کے پروفیسر مسٹر آرنلڈ صاحب نے کہا کہ تثلیث کا مسئلہ کسی ایشیائی دماغ میں آہی نہیں سکتا۔( یعنی یہ عیسائیوں کا مسئلہ ہے یہ تو کسی ایشیائی دماغ میں نہیں آسکتا)۔تو ڈاکٹر صاحب موصوف جو علامہ اقبال کہلائے ، وہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی خدمت میں آئے اور پروفیسر کی یہ بات بتائی۔اور عرض کی کہ میں اس کا