خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 49
خطبات مسرور جلد ہشتم 49 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 جنوری 2010 جیسا کہ پہلے بھی میں ایک خطبہ میں ذکر کر چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول ا اور قرآن کریم وہ نور ہیں جن کے ذریعہ سے شیطان کے حملوں سے بچا جا سکتا ہے۔پس اس دعا میں قرآن کریم کو بہار بنانے کا مطلب ہے کہ اسے پڑھنے ، اس پر عمل کرنے ، اس کو سمجھنے کی توفیق اللہ تعالیٰ عطا فرمائے اور جب ہم اس دعا پر غور کرتے ہوئے قرآن کریم کو پڑھیں گے ، سمجھنے کی کوشش کریں گے ، عمل کریں گے تو ظاہر ہے جو بھی عمل ہو گا اس سے لازماً حقوق اللہ کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ ہو رہی ہو گی اور حقوق اللہ بھی ادا کرنے کی کوشش ہو رہی ہو گی اور حقوق العباد بھی ادا کرنے کی طرف توجہ ہو رہی ہو گی اور کوشش ہو رہی ہو گی۔عبادت کے معیار بڑھیں گے اور الا بذکر اللهِ تَطْمَبِنُ القُلُوبُ ( سورة الرعد : آیت (29) کا مضمون اپنی شان دکھاتے ہوئے اطمینان قلب کا باعث بنے گا۔مشکلات سے نکالنے کا باعث بنے گا۔پھر ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ رات کو جب رسول اللہ صلی ا کم نماز سے فارغ ہوئے میں نے آپ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا۔اے اللہ ! میں تیری اس رحمت خاص کا طلبگار ہوں۔جس کے ذریعہ تو میرے دل کو ہدایت عطا کر دے اور میرے کام بنادے اور میرے پراگندہ کاموں کو سنوار دے اور میرے بچھڑے ہوؤں کو ملا دے۔اور میرے تعلق رکھنے والے کو رفعت دے۔تو اپنی رحمت کے ذریعہ میرے عمل کو پاک کر دے اور مجھے رشد و ہدایت الہام کر اور جن چیزوں سے مجھے الفت ہے وہ مجھے مل جائیں۔ہاں ایسی رحمت خاص جو مجھے ہر برائی سے بچالے۔اور اے اللہ ! مجھے ایسا دائگی ایمان وایقان بھی نصیب فرما جس کے بعد کفر نہیں ہو تا۔( اب آنحضرت صلی للی کم کا مقام دیکھیں فرماتے ہیں) اے اللہ مجھے ایسا دائمی ایمان و ایقان بھی نصیب فرما جس کے بعد کفر نہیں ہوتا۔( یہ دعا ہمیں کس قدر کرنی چاہئے؟۔ایسی رحمت عطا کر جس کے ذریعہ مجھے دنیا و آخرت میں تیری کرامت کا شرف نصیب ہو جائے۔اے اللہ !میں تجھ سے ہر فیصلے میں کامیابی چاہتا ہوں اور شہیدوں کی سی مہمان نوازی اور سعادت مندی کی زندگی اور دشمنوں پر فتح و نصرت کا خواستگار ہوں۔مولیٰ میں تو اپنی حاجت لے کر تیرے در پر حاضر ہو گیا ہوں۔اگر میری سوچ ناقص اور میری تدبیر کمزور بھی ہے تب بھی میں تیری رحمت کا محتاج ہوں۔پس اے تمام معاملات کے فیصلے کرنے والے اور اے دلوں کو تسکین عطا کرنے والے ! میں تجھ سے سوال کرتاہوں کہ جس طرح بھرے سمندروں میں تو انسان کو بچالیتا ہے اسی طرح مجھے آگ کے عذاب سے بچالے۔ہلاکت کی آواز اور قبر کے فتنے سے مجھے پناہ دے اور اے میرے مولیٰ !جس دعا سے میری سوچ کو تاہ ہے ( جہاں تک میری سوچ نہیں پہنچ سکتی) اور جس امر کے لئے میں نے دست سوال دراز نہیں کیا ہاں وہ خیر اور وہ بھلائی جس کی میں نیت بھی نہیں باندھ سکا۔نہ صرف یہ کہ دست سوال نہیں پھیلا یا بلکہ نیت بھی نہیں