خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 642
خطبات مسرور جلد ہشتم 642 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 دسمبر 2010 میں نے جو بعض روایات لی ہیں ان میں سے پہلی روایت حضرت ولی داد خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہے جو راجپوت قوم کے تھے۔ملک خان صاحب کے بیٹے ساکن مراڑا تحصیل نارووال ، کہتے ہیں کہ میں نے دسمبر 1907ء میں جلسہ سالانہ پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ مبارک پر بیعت کی تھی اور تاریخ جلسہ سے ایک دن پہلے رات کو قادیان پہنچا تھا۔صبح جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے گھر سے باہر تشریف لانا تھا تو میں نے دیکھا کہ مسجد مبارک کے پاس بہت بڑا ہجوم ہے۔آدمی ایک دوسرے پر گر رہے تھے۔میں چونکہ نووارد تھا، میں دوسری گلی پر کھڑا ہو کر دعا مانگ رہا تھا کہ اے مولا کریم! اگر حضور اس گلی سے تشریف لے آویں تو سب سے پہلے میں مصافحہ کر لوں۔اُسی وقت کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مع حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد اسی راستے سے تشریف لے آئے ہیں“۔کہتے ہیں کہ ”یکلخت مجھے ایسا معلوم ہو ا جس طرح سورج بادل سے نکلتا ہے اور روشنی ہو جاتی ہے۔میں نے دوڑ کر سب سے پہلے مصافحہ کیا۔حضور آریہ بازار کے راستے باہر تشریف لے گئے۔مجھے یاد پڑتا ہے کہ نواب محمد علی خان صاحب کے باغ کا جو شمالی کنارہ ہے وہاں سے حضور واپس مڑے۔غالباً مسجد نور یا مدرسہ احمدیہ کی مغربی حد ہے ، وہاں حضور بیٹھ گئے۔صحابہ کرام ارد گرد جمع تھے اور میر حامد شاہ صاحب مرحوم سیالکوٹی نے کچھ نظمیں اپنی بنائی ہوئیں سنائیں۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ نمبر 3 صفحہ 84 روایت حضرت ولی داد خان صاحب غیر مطبوعہ ) پھر حضرت مدد خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ انسپکٹر بیت المال قادیان جو کہ راجہ فتح محمد خان صاحب کے بیٹے تھے ، یاڑی پورہ ریاست کشمیر کے رہنے والے تھے۔1896ء میں انہوں نے بیعت کی اور 1904ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت کی۔کہتے ہیں کہ ایک دفعہ مجھے اپنے وطن میں رمضان المبارک کے مہینے میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اس دفعہ قادیان میں جا کر روزے رکھوں اور عید وہیں پڑھ کر پھر اپنی ملازمت پر جاؤں۔اُن دنوں میں ابھی نیا نیا ہی فوج میں جمعدار بھرتی ہو ا تھا۔( میرا خیال ہے آج کل تو یہ عہدہ نہیں لیکن یہ junior comissioned officer ہوتے تھے تو کہتے ہیں کہ میری اُس وقت ہر چند یہی خواہش تھی کہ اپنی ملازمت پر جانے سے پہلے میں قادیان جاؤں تا حضور کے چہرہ مبارک کا دیدار حاصل کر سکوں اور دوبارہ آپ کے دست مبارک پر بیعت کا شرف حاصل کروں، کیونکہ میری پہلی بیعت 1895 ء یا 96ء کی تھی جو ڈاک کے ذریعے (خط کے ذریعے) ہوئی تھی۔کہتے ہیں میرا ان دنوں قادیان میں آنے کا پہلا ہی موقع تھا۔نیز اس لئے بھی میرے دل میں غالب خواہش پیدا ہوئی کہ ہو نہ ہو ضرور اس موقع پر حضور کا دیدار کیا جاوے۔شاید اگر ملازمت پر چلا گیا تو پھر خدا جانے حضور کو دیکھنے کا موقع ملے یا نہ ملے۔لہذا یہی ارادہ کیا کہ پہلے قادیان چلا جاؤں اور حضور کو دیکھ آؤں اور پھر وہاں سے واپس آکر اپنی ملازمت پر چلا جاؤں۔کہتے ہیں میں قادیان کو اس سوچ کے ساتھ آیا تھا لیکن جو نہی