خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 564 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 564

خطبات مسرور جلد ہشتم 564 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 اکتوبر 2010 میں جیسا کہ میں نے کہا، جب عیسائیت پھیلی تو انہوں نے بھی اس رسم کو اپنا لیا۔اور یہ بھی ان کے تہوار کے طور پر اس میں شامل کر لی گئی۔کیتھولکس خاص طور پر ( یہ رسم) زیادہ کرتے ہیں۔اب یہ رسم عیسائیت کی وجہ سے اور پھر میڈیا کی وجہ سے، آپس کے تعلقات کی وجہ سے تقریباً تمام دنیا میں خاص طور پر مغرب میں ، امریکہ میں، کینیڈا میں، یہاں UK میں، جاپان میں، نیوزی لینڈ میں، آسٹریلیا وغیرہ میں، یورپ کے بعض ملکوں میں پھیل چکی ہے۔اور جیسا کہ میں نے کہا یہ چھپی ہوئی برائی ہے۔جسے مغرب میں رہنے والے مسلمان بھی اختیار کر رہے ہیں۔بچے مختلف لباس پہن کر گھر گھر جاتے ہیں۔گھر والوں سے کچھ وصول کیا جاتا ہے تاکہ روحوں کو سکون پہنچایا جائے۔گھر والے اگر ان مختلف قسم کے لباس پہنے ہوئے بچوں کو کچھ دے دیں تو مطلب یہ ہے کہ اب مردے اس گھر کو کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔یہ ایک شرک ہے۔بے شک آپ یہی کہیں کہ fun ہے، ایک تفریح ہے لیکن جو پیچھے نظریات ہیں وہ مشرکانہ ہیں۔اور پھر یہ کہ ویسے بھی یہ ایک احمدی بچے کے وقار کے خلاف بات ہے کہ عجیب و غریب قسم کا حلیہ بنایا جائے۔اور پھر گھروں میں فقیروں کی طرح مانگتے پھریں۔چاہے وہ یہی کہیں کہ ہم مانگنے جارہے تھے یا چاکلیٹ لینے جارہے تھے لیکن یہ مانگنا بھی غلط ہے۔احمدی کا ایک وقار ہونا چاہئے اور اس و قار کو ہمیں بچپن سے ہی ذہنوں میں قائم کرنا چاہئے۔اور پھر یہ چیزیں جو ہیں مذہب سے بھی دور لے جاتی ہیں۔بہر حال جب یہ منایا جاتا ہے تو پیغام اس میں یہ ہے کہ چڑیلوں کا وجود، بدروحوں کا وجود، شیطان کی پوجا، مافوق الفطرت چیزوں پر عارضی طور پر جو یقین ہے وہ fun کے لئے کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔یہ انتہائی غلط نظریہ ہے۔پس یہ سب شیطانی چیزیں ہیں۔اس سے ہمارے بچوں کو نہ صرف پر ہیز کرنا چاہئے بلکہ سختی سے بچنا چاہئے۔ماضی قریب تک دیہاتوں کے رہنے والے جو لوگ تھے وہ بچوں کو جو اس طرح ان کے دروازے پر مانگنے جایا کرتے تھے اس خیال سے بھی کچھ دے دیتے تھے کہ مردہ روحیں ہمیں نقصان نہ پہنچائیں۔بہر حال چونکہ بچے اور ان کے بعض بڑے بھی بچوں کی طرف سے پوچھتے رہتے ہیں۔اس لئے میں بتارہا ہوں کہ یہ ایک بد رسم ہے اور ایسی رسم ہے جو شرک کی طرف لے جانے والی ہے۔پھر اس کی وجہ سے بچوں میں fun کے نام پر، تفریح کے نام پر غلط حرکتیں کرنے کی جرات پیدا ہوتی ہے۔ماں باپ ہمسایوں سے بد اخلاقی سے پیش آتے ہیں۔ماں باپ سے بھی اور ہمسایوں سے بھی اور اپنے ماحول سے بھی، اپنے بڑوں سے بھی بد اخلاقی سے پیش آنے کا رجحان بھی اس وجہ سے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔یہ بھی ایک سروے ہے۔حتی کہ دوسرے جرائم بھی اس لئے بڑھ رہے ہیں۔اس قسم کی حرکتوں سے ان میں جرآت پیدا ہوتی جارہی ہے۔مغرب میں ہر برائی کو بچوں کے حقوق اور fium کے نام پر تحفظات مل جاتے ہیں، اجازت مل جاتی ہے اور مل رہی ہے لیکن اب خود ہی یہ لوگ اس کے خلاف آوازیں بھی اٹھانے لگ گئے ہیں۔کیونکہ اس سے اخلاق بر باد ہورہے ہیں۔پھر halloween کے خلاف کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ اس سے بچوں میں تفریح کے نام پر دوسروں