خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 565
خطبات مسرور جلد ہشتم 565 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 اکتوبر 2010 کو ڈرانے اور خوفزدہ کرنے کی برائی جیسا کہ میں نے بتایا کہ بڑھ رہی ہے اور جرائم بھی اس وجہ سے بڑھ رہے ہیں۔ایک تو فلموں نے غلط تربیت کی ہے۔پھر اگر عملی طور پر ایسی حرکتیں کرنے لگ جائیں اور ان کو تفریح کے نام پر بڑے encourage کرنا شروع کر دیں تو پورے معاشرے میں پھر بگاڑ ہی پیدا ہو گا اور کیا ہو سکتا ہے ؟ اور پھر ہمارے لئے سب سے بڑی بات جیسا کہ میں نے کہا مر دوں کو خدا کے مقابل پر کھڑا کر کے ان کے کسی بھی غلط عمل سے محفوظ کرنے کا شیطانی طریق اختیار کیا گیا ہے۔گویا کہ اللہ تعالیٰ کے مقابل پر کھڑا کر کے ایک شرک قائم کیا جا رہا ہے یا بچوں کو تحفے تحائف دے کے ان کی روحوں کو خوش کیا جارہا ہے۔یا جادو گروں کے ذریعہ سے جادو کر کے ڈرایا جارہا ہے۔بہر حال یہ نہایت لغو اور بیہودہ تصور ہے۔ایک مصنف ہیں ڈاکٹر گریس کیٹر مین، ایم ڈی، وہ اپنی کتاب You and your child's problems میں لکھتے ہیں کہ : "A tragic, by-product of fear in the lives of children as early as preadolescence is the interest and involvement in super natural occult phenomena۔" یعنی بچوں کی زندگی میں جوانی میں قدم رکھنے سے پہلے ، اس عمر سے پہلے یا اس دوران میں خوف کی انتہائی مایوس کن حالت جو لاشعوری طور پر پید اہورہی ہے وہ ا فوق الفطرت چیزوں میں دلچسپی اور ملوث ہونے کی وجہ سے ہے۔اب halloween کی وجہ سے جو بعض باتیں پیدا ہو رہی ہیں ان میں یہ باتیں صرف یہاں تک نہیں رکتیں کہ costume پہنے اور گھروں میں مانگنے چلے گئے بلکہ بعض بڑے بچے پھر زبر دستی گھر والوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔اور دوسری باتوں میں، جرموں میں بھی ملوث ہو جاتے ہیں۔اور نتیجةً پھر جہاں وہ معاشرے کو ، ماحول کو ڈسٹرب کر رہے ہوتے ہیں اور نقصان پہنچارہے ہوتے ہیں وہاں ماں باپ کے لئے بھی دردِ سر بن جاتے ہیں اور اپنی زندگی بھی برباد کر لیتے ہیں۔اس لئے میں پھر احمدیوں سے کہتا ہوں کہ ان باتوں سے بہت زیادہ بیچنے کی ضرورت ہے۔احمدی بچوں اور بڑوں کا کام ہے کہ خدا تعالیٰ سے تعلق بڑھائیں۔جو ہمارا مقصد ہے اس کو پہچانیں۔وہ باتیں کریں جن کے کرنے کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔مغربی معاشرے کا اثر اتنا اپنے اوپر نہ طاری کریں کہ بُرے بھلے کی تمیز ختم ہو جائے۔خدا تعالیٰ سے تعلق اور اس کی ذات کی بڑائی کو بھی بھول جائیں۔اور مخفی شرک میں مبتلا ہو جائیں اور اس کی وجہ سے پھر ظاہری شرک بھی ہونے لگ جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ سب کو اس سے محفوظ رکھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”انسان خدا کی پرستش کا دعویٰ کرتا ہے مگر کیا پرستش صرف بہت سے سجدوں اور رکوع اور قیام سے ہو سکتی ہے؟ یا بہت مرتبہ تسبیح کے دانے پھیر نے والے پر ستار الہی کہلا سکتے ہیں ؟ بلکہ پرستش اس سے ہو سکتی ہے جس کو خدا کی محبت اس درجہ پر اپنی طرف کھینچے کہ اس کا اپنا وجو د درمیان سے اٹھ جائے۔اول خدا کی ہستی پر پورا یقین ہو