خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 534
خطبات مسرور جلد ہشتم 534 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 اکتوبر 2010 نہیں کہتا کہ یہاں بند ہو گیا۔اب اگلا قدم اٹھایا جائے گا۔تو اس طرح انشاء اللہ تعالیٰ چلتا جائے گا۔جن کے پاس ایک دفعہ یہ پیغام پہنچ گیا اب ان کے لئے سوچنا چاہئے کہ اگلا پیغام کیا دینا ہے ؟ ان کو اگلا پیغام کیا پہنچانا ہے ؟۔ایک صاحب نے مجھے کہا کہ کینیڈا میں بھی لیف لیٹ تقسیم ہو رہے ہیں۔بہتر یہ ہے کہ انڈیا کی کسی جگہ سے ٹیکسٹ میسجز (Text Messages) بھیجے جائیں تو اس سے زیادہ اثر ہو گا۔سوال یہ ہے کہ وہاں بیٹھ کر کون سی ٹیم بھیجے گی۔اور پھر کن کن ملکوں میں بھیجے گی ؟ وہاں کے نمبروں کا ڈائریکٹریوں سے اگر پتہ بھی کر لیں گے ، ایڈریس لے لیں گے تو پھر بعض قانونی رو کیں ہوتی ہیں۔بہر حال قانونا یہ غلط ہے کہ کسی کو اگر وہ کوئی پیغام لینا نہیں چاہتا تو وہ پیغام بھیجا جائے۔گو کہ ان کی نیت نیک ہی ہو گی لیکن یہ پیغام بہر حال اس طرح اثر انداز نہیں ہو سکتا جس طرح خود دینے سے، کیونکہ جب خود آپ دے رہے ہوں گے تو اپنی ایک کوشش بھی بیچ میں شامل ہوتی ہے۔ایک ذاتی تعلق بھی بنتا ہے۔پھر جب وہ شخص آپ کو دیکھتا ہے ، آپ کا حلیہ دیکھتا ہے آپ کا انداز دیکھتا ہے آپ کی بات چیت کا انداز دیکھتا ہے تو پھر ایک ظاہری شکل سے بھی وہ اندازہ لگا لیتا ہے کہ کس قسم کا شخص ہے ؟ اور پرسنل تعلق جب بنتے ہیں تو پھر ان سے رابطے بڑھتے ہیں اور یہی پھر تبلیغ کے ذریعے پیدا کرتے ہیں۔لٹریچر دینا یا پمفلٹ دینا یالیف لیٹ دینا تو ٹھیک ہے۔لیکن صرف فونوں پر ٹیکسٹ میسج دینا ٹھیک نہیں۔پھر یہ ہے کہ مشن کا پتہ دیں گے تو کوئی آئے کہ نہ آئے۔ٹیکسٹ میسج دینے سے کمپنیوں کے اشتہار تو دیئے جاسکتے ہیں لیکن جب تک ذاتی تعلق سے اور ذاتی کوشش سے تبلیغ نہ کی جائے یا یہ لٹریچر تقسیم نہ کیا جائے تو پھر میرے خیال میں اس طرح تبلیغ نہیں ہو سکتی۔کیونکہ رابطے مستحکم ہوں گے تو تبلیغ کے میدان میں آگے بڑھیں گے۔پھر یہ بھی میں کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں اور بعض مسلمان ممالک میں اگر قانونی روکیں ہیں، تو باہر دوسرے ممالک میں جہاں آزادی ہے وہاں وسیع پیمانے پر جماعت کا تعارف کروانے کی کوشش کرنی چاہئے۔یہ جو ہو رہا ہے ہر ملک نے ہزاروں میں یا چند لاکھ میں شائع کئے ہیں اس پر اکتفا نہ کر لیں۔اس کام کو اب آگے بڑھانا چاہئے۔ہر سال یہ تعارف لاکھوں میں پہنچنا چاہئے اور جن کو پہنچ گیا ان کو اگلا حصہ پہنچنا چاہئے۔گویا کہ سارے نظام کو اس میں پوری طرح involve ہونا پڑے گا۔پھر ان لیف لیٹس کے ذریعے جیسا کہ میں نے کہا صرف امریکہ میں نہیں اور جگہوں پر بھی اخباروں نے خبریں دی ہیں جہاں کئی ملین لوگوں میں احمدیت کا پیغام پہنچا ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیغام پہنچا ہے۔پس اس مہم کو پہلے سے بڑھ کر جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انتباہ کرنا بھی انبیاء کے کاموں میں سے ایک کام ہے۔اور پھر انبیاء کے جو ماننے والے ہیں اُن کو بھی ان کے کام کو آگے بڑھانا چاہئے۔اس لئے دنیا کو آگاہ کرنا، دنیا کو انتباہ کرنا، اللہ تعالیٰ کے انذار سے ڈرانا یہ بھی بعض دفعہ ضروری ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَالْمُلْقِیتِ ذِکرا کہ اللہ کا پیغام سنانے والوں کو انتباہ کرنے