خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 491 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 491

خطبات مسرور جلد ہشتم 491 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 ستمبر 2010 اولاد اور آئندہ نسلوں کی تربیت کی اہمیت بہت سے لوگ جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں آپ کی بیعت کی، (سرحد کے علاقے میں تو ابھی بھی بہت ہیں) لیکن اپنی بیویوں کی اور اپنی اولادوں کی اس نہج پر تربیت نہیں کر سکے اور ان کو جماعت سے جوڑ نہیں سکے جس کی وجہ سے آہستہ آہستہ اگلی نسلیں علیحدہ ہو گئیں، ان کا پتہ ہی نہیں لگا۔تو جہاں یہ دعا انسان کرتا ہے کہ میں بھی کامل فرمانبردار رہوں ، میں بھی خدا تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے والا رہوں اور جس کا ہاتھ پکڑا ہے اس کا ہاتھ پکڑے رکھوں، وہاں اپنی نسل کے لئے بھی دعا کرتا ہے اور اس کے لئے کوشش بھی کرتا ہے، تو تبھی کامیابیاں ملتی ہیں۔پس یہ ایک ایسا سلسلہ دعا ہے جس کو ہمیشہ جاری رہنا چاہئے ، اور اس دعا کے ساتھ خدا تعالیٰ کے گھر کی تعمیر کے مقصد کے حصول کی کوشش ہوتی ہے اور ہونی چاہئے ، اور جو اگر حاصل ہو جائے تو انسان کی دنیاو آخرت سنور جاتی ہے۔سے وہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام کی دعا کو تو خدا تعالیٰ نے ایسا قبول فرمایا کہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ وہ جگہ تمام دنیا کی مساجد کا محور بن گئی اور اس کو اللہ تعالیٰ نے بنانا تھا۔اور ان دونوں کی ذریت رسول صلی علی کم پیدا ہوئے جنہوں نے فرمانبرداری اور اطاعت اور عبادت کے بھی نئے اور عظیم معیار قائم کر دیئے۔اور اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام سے بڑھ کر آنحضرت صلی علمی کم کی ذات میں دعاؤں اور عبادتوں کے معیار قائم کروا دیے اور پھر ہمیں حکم دیا کہ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب : 22) - يقيناً تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کے رسول میں اُسوہ حسنہ ہے۔اور اُس اُسوہ حسنہ میں ہم نے کیا دیکھا؟ آج مسجد کے حوالے سے میں بات کرتا ہوں تو عبادتوں کے جو نئے سے نئے معیار قائم ہو رہے ہیں۔یہ نہ صرف خود قائم کئے بلکہ صحابہ میں وہ روح پھونک دی کہ جنہوں نے عبادتوں کے نئے سے نئے معیار قائم کئے۔ایک جگہ جمع ہو کر نماز پڑھنے کے لئے مدینہ میں پہنچ کر سب سے پہلا کام یہ کیا کہ مسجد کی بنیاد رکھی تاکہ اُمت کے افراد خدائے واحد کی عبادت کرنے کی طرف متوجہ رہیں۔ایک جگہ جمع ہو کر سب عبادت کر سکیں۔پھر دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ مسجد نبوی دن رات خدا تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کی آماجگاہ بن گئی اور آج تک یہ سلسلہ جاری ہے۔پس اللہ کے گھر کی تعمیر کے ساتھ اپنی نسلوں کو خدا تعالیٰ کے ساتھ جوڑنے کی کوشش اور دعا بھی ہونی چاہئے، تبھی مسجد کی تعمیر کے مقصد کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ورنہ اینٹ، سیمنٹ، لکڑی کے ڈھانچے جو ہیں یہ کھڑے کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو تا۔پس یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ ہم کچھ مالی قربانی کر کے مسجد کی تعمیر کر دیں گے تو ہماری ذمہ داری ختم ہو جائے گی۔مسجد کی تعمیر کی جو بنیادی اینٹ ہے اس سے لے کر چھت تک پہنچنے والی ہر اینٹ جب رکھی جارہی ہو تو اسے پہنچانے کے لئے ہم میں سے ہر ایک کا فرض بنتا ہے کہ اس کی آبادی کے لئے بھی دعا کرتے رہیں تاکہ ہمارے دل بھی خد اتعالیٰ کی عبادت کی طرف خالص ہو کر مائل رہیں اور ہماری اولاد کے دل بھی خدا تعالیٰ کی عبادت کی طرف مائل رہیں، ان کو توجہ پیدا