خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 468
خطبات مسرور جلد ہشتم 468 37 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 ستمبر 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 ستمبر 2010ء بمطابق 10 تبوک 1389 ہجری شمسی بمقام بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: آج رمضان کا آخری جمعہ ہے اور یہ آخری روزہ ہے۔اللہ تعالیٰ ہمارے لئے اس رمضان کو ذاتی زندگی میں بھی اپنے فضلوں کی بہار لانے والا بنادے اور جماعتی ترقیات کے لئے بھی ایک نیا سنگ میل ثابت ہو۔اللہ تعالیٰ ان تمام دعاؤں کو قبول فرما کر ان کے بہترین نتائج پیدا فرمائے جو ہم نے اپنی ذات، اپنے بیوی بچوں، اپنے خاندان کے لئے کی ہیں۔اور ان دعاؤں کو بھی قبول فرمائے جو ہم نے جماعت کی ترقی کے لئے کی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ آپ کی جماعت کی ترقی کا وعدہ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہوا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ یہ ترقیات مقدر ہیں۔ہماری دعائیں تو ان ترقیات کے لئے حقیر کو شش کر کے ان کی برکات سے فیض یاب ہونے کے لئے ہیں اور اس ثواب میں حصہ دار بننے کے لئے جو ثواب اللہ تعالیٰ نے اس کی کامیابی اور ترقی کے لئے کوشش کرنے والوں کے لئے رکھا ہوا ہے۔ورنہ اللہ تعالیٰ نے تو اپنے فیصلے کا اعلان کیا ہوا ہے کہ میں اور میر ا رسول ہی غالب آئیں گے۔اگر اللہ تعالیٰ ہماری زندگیوں میں ہمیں یہ کامیابیاں دکھا کر حصہ دار بنالے گا تو یہ اس کا احسان ہے ورنہ اسے ہماری دعاؤں کی کیا ضرورت ہے ؟ نہ اسے ہماری کوششوں کی ضرورت ہے۔پس ہمیں ہمیشہ یہ دعا کرتے رہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہم پر ہمیشہ اپنے فضل اور رحم کی نظر ڈالے رکھے اور ہم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بن جائیں، اس کے فضلوں کو سمیٹنے والے بن جائیں۔مختلف دعاؤں کا انتخاب آج کے خطبہ میں میں نے مختلف دعائیں قرآن کریم میں سے ، احادیث نبویہ میں سے، اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات اور ارشادات میں سے آپ کے سامنے پیش کرنے کے لئے لی ہیں۔حضرت مسیح موعود نے بعض قرآنی دعاؤں کی جہاں کہیں وضاحت بیان فرمائی ہے، اس وضاحت کو آپ کے الفاظ میں بیان کروں گا ورنہ عمومی طور پر یہ دعائیں ہی پڑھوں گا۔آپ میرے ساتھ دہراتے بھی جائیں اور آمین بھی کہتے