خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 339
خطبات مسرور جلد ہشتم 339 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 جولائی 2010 جہیز بنا کر دیا اور بعد میں اس کی شادی کی۔ان کی اہلیہ لکھتی ہیں کہ عینی شاہد نے بتایا کہ لعل خان صاحب دہشتگر دی کا واقعہ ہوا تو فوراً اپنے ہی حلقہ کے انصار بھائی کے ساتھ مسجد کی چھت پر چلے گئے۔جب اس فائر کرنے والے درندہ صفت کی بندوق کی گولیاں ختم ہو گئیں تو دوبارہ گولیاں بھر نے لگ گیا۔تب تھوڑی دیر کے لئے خاموشی ہوئی تو چھت پر جانے والے تمام افراد نے یہ سمجھا کہ حالات قابو میں آگئے ہیں۔چنانچہ وہ فور نیچے آگئے۔اتنی دیر میں اس نے اپنی بندوق پھر لوڈ کر لی۔خان صاحب اپنے ہاتھ اپنے ساتھیوں سے چھڑا کر بھاگ کر ہال کے پچھلے دروازے کو بند کر کے دروازے کے آگے سینہ تان کر کھڑے ہو گئے اور باقی نمازیوں سے کہنے لگے کہ آپ درود شریف کا ورد کرتے ہوئے جلدی جلدی محفوظ جگہوں پر چلے جائیں۔تقریباً پونے دو بجے تک وہ خیریت سے تھے۔اور دہشتگر دنے جب دروازہ بند کرتے دیکھا تو فوراً بھاگ کر دروازے پر پہنچا اور دروازہ کھولنے کے لئے دھکا دینے لگا۔انہوں نے مضبوطی سے تھامے رکھا۔اور اس دوران جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے اس نے نالی اندر کی اور فائر کر دیا۔اس دوران ان کے دو اور ساتھی بھی شہید ہو گئے۔ان تینوں کی شہادت سے اس عرصے میں جو دہشتگرد کے ساتھ زور آزمائی ہو رہی تھی ، ہال خالی ہو چکا تھا اور باقی نمازی محفوظ جگہوں پر چلے گئے۔ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ میرے میاں ایک فرشتہ صفت انسان تھے ، ہر وقت جماعت کی خدمت کی فکر تھی۔جوں ہی جماعت کی طرف سے کوئی اطلاع آتی تو فوراً عمل کرتے۔اپنے حلقہ پنجاب سوسائٹی کے زعیم انصار اللہ ، سیکرٹری تربیت نو مبائعین، سیکرٹری رشتہ ناطہ تھے۔وقف عارضی بہت شوق سے کرتے تھے۔شہادت سے پندرہ دن پہلے ان کی وقف عارضی مکمل ہوئی تھی۔وقف عارضی کے لئے انہوں نے عصر سے لے کر نماز عشاء کا ٹائم وقف کیا ہوا تھا۔عصر سے مغرب تک واپڈا ٹاؤن کے بچوں سے قرآن مجید، نماز با ترجمہ اور نصاب وقف نو میں سے سورتیں وغیرہ سنتے۔اگر کسی بچے کا تلفظ درست نہ ہو تا تو اس کا تلفظ درست کرواتے۔اور نماز مغرب کے بعد NESS پارک سوسائٹی میں آجاتے۔نماز عشاء تک وہاں کے بچوں کو پڑھاتے۔بچوں کے دلوں میں جماعت کی محبت، خلیفہ وقت کی محبت اور اطاعت کا شوق پیدا کرنے والے واقعات سناتے۔میرے میاں کی شہادت کے بعد تمام بچے سو گوار تھے اور یہی کہتے کہ انکل تو ہمارے فیورٹ (Favourite) انکل تھے۔ہمیں انہوں نے بہت کچھ سکھایا۔ہر وقت زبان پر درود شریف اور خلافت جو بلی کی دعائیں ہوتی تھیں۔گھر میں ہم سب کو بھی درود شریف اور خلافت جو بلی کی دعائیں پڑھنے کی تلقین کرتے رہتے تھے۔اول وقت میں نماز پڑھنے کے عادی تھے اور اہل خانہ کو بھی اس کا عادی بنایا۔ان کے ایک اور واقف نے لکھا ہے کہ 1998ء سے 2001ء تک مظفر گڑھ کے امیر ضلع رہے۔آپ کو جماعت کے افراد کی تربیت کا بڑا فکر ہو تا تھا۔آغاز اپنے گھر سے کرتے تھے۔لوگوں کے عائلی معاملات میں صلح و صفائی کی کوشش کرتے۔ایک دفعہ شہر سلطان،( یہ وہاں جگہ کا نام ہے) میں عائلی معاملہ پیش تھا۔آپ نے فریقین کے حالات و واقعات سنے اور دیگر افراد سے بھی تصدیق چاہی۔