خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 274 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 274

خطبات مسرور جلد ہشتم 274 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 جون 2010 تھے ، جمعہ کے روز آپ عام طور پر مسجد میں کھڑے ہو کر اعلانات کیا کرتے تھے۔اس وقت بھی خطبہ سے پہلے اعلان کر کے فارغ ہوئے تھے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 59 سال تھی۔ان کی شہادت بھی دارالذکر میں ہوئی ہے۔نسیم مہدی صاحب اور پروازی صاحب کے یہ برادر نسبتی تھے ، بہنوئی تھے اور مولوی احمد خان صاحب ان کے خسر تھے۔پاکستان ریلوے مکینیکل انجنیئرنگ میں چیف انجنیئر تھے اور بیسویں گریڈ کے افسر تھے اور اکیسویں گریڈ کے لئے فائل جمع کروائی ہوئی تھی اور چند روز میں ان کی ترقی ہونے والی تھی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے وہ عظیم رتبہ ان کو عطا فرمایا ہے جس کے سامنے ان گریڈوں اور ان ترقیوں کی کوئی حیثیت نہیں۔ان کے بارے میں ڈیوٹی پر موجود ایک خادم نے بتایا کہ مکرم اسلم بھروانہ صاحب کو تہہ خانہ میں بھجوانے کی کوشش کی گئی مگر انہوں نے انکار کر دیا اور کہا کہ میں یہیں رہوں گا۔آپ دوسروں کو تہہ خانے میں لے جائیں اور خود ہال سے باہر صحن میں نکلے تاکہ دوسروں کی خبر گیری کر سکیں۔جب دروازہ کھولا تو سامنے کھڑے دہشتگر دنے ان پر فائرنگ کر دی۔شہید مرحوم اہم جماعتی عہدوں پر فائز رہے۔سابق قائد علاقہ راولپنڈی اور لاہور کے علاوہ سیکرٹری تربیت نومبائعین، سیکرٹری جائیداد لاہور ، لاہور کا ہانڈو گجر میں قبرستان ہے اس کے نگران ، بہت اخلاص سے دن رات محنت کرنے والے تھے اور بہت بہادر انسان تھے۔جب کو ئٹہ میں بسلسلہ ملازمت تعینات تھے تو ضیاء الحق اس وقت صدر پاکستان تھے۔ان کی آمد پر ریلوے آفیسر ہونے کی وجہ سے ان کو آگے سیٹ ملی۔جب وہاں جو فنکشن تھا اس میں آگے بیٹھے ہوئے تھے، پہلی لائن پر ، اور وہاں ان دنوں کلمے کی مہم بھی چل رہی تھی۔مطلب ہے کہ احمدیوں کو منع کیا تھا، نیا نیا آرڈینس آیا تھا انہوں نے کلمے کا بیج لگایا ہوا تھا اور آگے آگے بیٹھ گئے۔تو گورنر نے ان کو پیغام بھیجا کہ آپ یا تو پیچھے چلے جائیں یا گلے کا پیچ اتار دیں۔تو انہوں نے جواب دیا کہ نہ تو میں کلمے کا پیج اتار سکتا ہوں اور نہ ڈر کی وجہ سے پیچھے جاسکتا ہوں۔آپ اگر چاہیں تو مجھے بے شک گھر بھیج دیں یعنی نوکری سے فارغ کر دیں۔بہر حال ڈٹے رہے۔اس طرح کے ابتلاء کے دور میں لاہور کے قائد علاقہ رہے ہیں اور حالات کے پیش نظر احمدی نوجوانوں کو ڈیوٹی کے لئے ہمیشہ انہوں نے تیار کیا۔خود بھی لمبے عرصے تک گیٹ پر ڈیوٹی دیتے رہے۔بہت مدد کرنے والے اور خدمت خلق کرنے والے انسان تھے۔شہید مرحوم کی اہلیہ بیان کرتی ہیں کہ خلافت اور جماعت سے عشق تھا۔جماعتی کام کو ترجیح دیتے تھے۔زندگی وقف کرنے کی بہت خوشی تھی۔ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی وقف کی تھی اور صحت کا خیال اس لئے رکھتے تھے کہ میں نے وقف کیا ہوا ہے اور جماعت کے کام آسکوں۔باجماعت نماز کے پابند اور دیانتدار افسر تھے اس لئے ان کی ہر جگہ بہت عزت کی جاتی تھی۔جب یہ تعلیم حاصل کر رہے تھے تو جماعتی طور پر ان کا خرچ اٹھایا جاتا تھا۔اس لئے باقاعدگی سے کفالت یتامی میں چندہ ادا کیا کرتے تھے۔یتامی کی طرف سے ان کا خرچ اٹھایا جا تا تھا۔اس کے علاوہ