خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 275
خطبات مسرور جلد ہشتم 275 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 جون 2010 بھی دیگر چندہ جات میں بڑا بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔شہید مرحوم کی ایک عزیزہ نے چند دن پہلے خواب میں دیکھا کہ آواز آئی شہیدوں کو چننے کے لئے تیار ہو جاؤ“۔خود میں نے بھی ان کو دیکھا ہے بڑی عاجزی سے کام کرنے والے تھے اور مرکزی کارکنان، جس لیول کا بھی کارکن ہو ، اس کی بڑی عزت کیا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔مکرم اشرف بلال صاحب اشرف بلال صاحب شہید ابن مکرم محمد لطیف صاحب۔شہید مرحوم کے سب رشتے دار اللہ کے فضل سے احمدی ہیں حملہ۔ان کے نانا مکرم خدا بخش صاحب نے حضرت مصلح موعودؓ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔یہ برطانیہ کے شہری تھے۔ان دنوں پاکستان آئے ہوئے تھے۔مالی خدمات میں حصہ لینے والے تھے۔انہوں نے شالیمار ٹاؤن کی بیت الذکر تعمیر کروا کر جماعت کو عطیہ کرنے کی سعادت پائی۔انجنیئر نگ کے شعبہ سے وابستہ تھے۔اپنی در کشاپ فیکٹری بنائی ہوئی تھی۔شہادت کے وقت ان کی عمر 56 سال تھی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعتی خدمات، سیکرٹری تحریک جدید وغیرہ کے طور پر بھی انجام دے رہے تھے۔دارالذکر میں ان کی شہادت ہوئی ہے۔موصی تھے۔ان کے بائیں کندھے کے پیچھے سے گولی لگ کر سامنے دل سے نکل گئی تھی اور مضبوطی سے انہوں نے ہاتھ جسم کے قریب کر کے جیب میں ڈالا اور ڈرائیور کو فون کیا کہ مجھے گولی لگی ہے لیکن کسی کو بتانا نہیں ہے۔اسی طرح ایک گولی ان کی گردن پر بھی لگی۔ایک بچہ نثار احمد نام کا جو بچپن سے ان کے پاس تھا۔اس کے بارے میں دیکھنے والوں نے بتایا کہ ان کو گرتے ہوئے اس بچے نے بازوؤں میں لے لیا۔لیکن وہ نیم مردہ حالت میں آگئے۔نثار نے ان کا سر اٹھا کر جب ان کے دل کی دھڑکن سننے کی کوشش کی ہے تو دہشتگر دنے ایک اور گولیوں کی بوچھاڑ کی جس سے وہ لڑکا نثار احمد بھی شہید ہو گیا اور وہ بھی شہادت پاتے ہوئے اپنی وفا داری کا ثبوت دے گیا۔ہر وقت ذکرِ الہی اور استغفار میں مصروف رہتے تھے۔نمازوں میں خوب روتے تھے۔ان کی اہلیہ کہتی ہیں میں وجہ پوچھتی تھی تو کہتے تھے کہ میں اللہ تعالیٰ کا شکر کرتا ہوں میں تو اس قابل نہ تھا۔خدمت خلق اور مالی قربانی میں بہت آگے بڑھے ہوئے تھے۔ہر ماہ کئی لاکھ روپیہ خدمت خلق کے لئے خرچ کر دیتے تھے۔ایک فری ڈسپنسری چلا رہے تھے۔بہت سے لوگوں کو ماہانہ خرچ دیتے تھے۔جو کوئی بھی ان کے پاس مدد کے لئے آتا تو کہتے کہ اب کسی اور کے پاس نہیں جانا، میرے سے لیا کرو۔ان کی اہلیہ کہتی ہیں اشرف صاحب کا رویہ دوماہ سے مختلف ہو رہا تھا۔جلدی جلدی تمام کام مکمل کروارہے تھے۔یو۔کے والے گھر کی دیوار اونچی کروائی اور مجھے نصیحت کی کہ اب تم ایک ملازمہ رکھ لو اور یہاں سے ایک لڑکی کے ویزے کا کام مکمل کروایا کہ اس کو ساتھ لے کر جانا ہے۔شہادت سے پندرہ روز قبل مجھے مختلف کاموں کی انجام دہی کے لئے وصیت کی تو میں نے کہا کہ میں یہ نہیں کر پاؤں گی۔تو جو ابا کہا کہ نہیں تم اچھی طرح سنبھال لو گی۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے۔☆ یہ وضاحت روز نامہ الفضل ربوہ مورخہ 19 جنوری 2011ء صفحہ 11 کے مطابق کی گئی ہے۔