خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 88 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 88

خطبات مسرور جلد ہشتم 88 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 فروری 2010 خیموں کی تلاش کی مگر بے سود۔اکبر علی صاحب نے گھبرا کر مجھے کہا کہ رات سر پر آگئی ہے اب کیا ہو گا ؟ میں نے کہا خدا داری چه غم داری۔(کہ جو خدا پر بھروسہ کرے اسے کیا غم ہے۔) خداضر ور کوئی سامان کر دے گا۔اتنے میں ایک گھوڑ سور آیا اور اس نے مجھ سے محبت سے سلام کیا اور کہا: ہیں! آپ کہاں ؟ میں نے قصہ سنایا۔کہنے لگا آپ ذرا ٹھہریں میں ابھی آتا ہوں۔تھوڑی دیر میں وہ ایک خیمہ اور گھاس لایا اور چند سپاہی بھی۔جن کے ذریعہ اس نے خیمہ لگوایا اور گھاس اس میں بچھا کر کہا اپنے گھر والوں کو اس میں اتار دیں۔پھر ایک اور خیمہ بطور بیت الخلاء کے لگوا دیا۔پھر کہا کہ میں آپ کے لئے کھانا لا تا ہوں مگر کچھ دیر ہو جائے گی آپ معاف کریں۔چنانچہ ضروری سامان پانی وغیرہ بھجوا کر خود قریبا گیارہ بجے رات کے کھانا زردہ، دال روٹی وغیرہ لایا اور معذرت کرنے لگا کہ چونکہ دیر ہو گئی تھی اس لئے گوشت نہیں مل سکا۔دال ہی مل سکی ہے آپ یہی قبول فرمائیں۔پھر پوچھنے پر کہنے لگا آپ مجھے نہیں جانتے۔میں نے کہا معاف کریں۔مجھے آپ سے ایک دفعہ کی ملاقات کا شبہ پڑتا ہے وہ بھی کچھ یاد نہیں کہاں ہوئی تھی۔تو اس نے کہا آپ نے میری درخواست لکھی تھی جس پر مجھے دفعداری مل گئی تھی۔(سرکاری نوکری کی پروموشن ہو گئی تھی)۔اس لئے میں آپ کا شکر گزار ہوں۔اور کہا اب رات بہت ہو گئی ہے میں جاتا ہوں اور چند آدمی چھوڑ گیا جو رات کو پہرہ دینے والے تھے تاکہ وہاں کوئی سامان وغیرہ چوری نہ ہو۔اور کہتے ہیں اس کے بعد میں نے سجدات شکر ادا کئے اور اللہ تعالیٰ کی اس بندہ نوازی نے میرے ایمان میں بڑی ترقی بخشی۔(ماخوذ از اصحاب احمد جلد سوم صفحہ 79-80۔جدید ایڈیشن۔مطبوعہ قادیان) حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مہاراجہ کشمیر نے مجھ سے کہا کہ کیوں مولوی جی تم ہم کو تو کہتے ہو کہ تم سور کھاتے ہو اس لئے بے جا حملہ کر بیٹھتے ہو۔(مہاراجہ کشمیر کے سامنے اس کو یہ کہتے تھے کہ آپ لوگ صرف سور کھاتے ہیں اور کوئی گوشت نہیں کھاتے۔اس لئے غصہ میں ذرا سخت ہیں۔) بھلا یہ تو بتاؤ کہ انگریز بھی تو سور کھاتے ہیں۔وہ کیوں اس طرح ناعاقبت اندیشی سے حملہ نہیں کرتے ؟ میں نے کہا کہ وہ ساتھ ہی گائے کا گوشت بھی کھاتے رہتے ہیں اس سے اصلاح ہو جاتی ہے۔سن کر خاموش ہو گئے اور پھر دوبرس تک مجھ سے کوئی مذہبی مباحثہ نہیں کیا۔(مرقاة الیقین فی حیات نور الدین مرتبه اکبر شاہ خان نجیب آبادی صفحه 252 مطبوعہ ربوہ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”وہ ( اللہ تعالیٰ ) قرآن شریف میں اس تعلیم کو پیش کرتا ہے۔جس کے ذریعہ سے اور جس پر عمل کرنے سے اسی دنیا میں دیدار الہی میسر آسکتا ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے مَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَ لَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبَّةٍ أَحَدًا (الكهف: 111) یعنی جو شخص چاہتا ہے کہ اسی دنیا میں اُس خدا کا دیدار نصیب ہو جائے جو حقیقی خدا اور پیدا کنندہ ہے۔پس چاہئے کہ وہ ایسے نیک عمل کرے جن میں کسی قسم کا فساد نہ ہو۔یعنی عمل اس کے نہ لوگوں کے دکھلانے کے لئے ہوں نہ ان کی