خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 89
خطبات مسرور جلد ہشتم 89 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 فروری 2010 وجہ سے دل میں تکبر پیدا ہو کہ میں ایسا ہوں اور ایسا ہوں۔اور نہ وہ عمل ناقص اور نا تمام ہوں۔اور نہ ان میں کوئی ایسی بد بو ہو جو محبت ذاتی کے بر خلاف ہو بلکہ چاہئے کہ صدق اور وفاداری سے بھرے ہوئے ہوں اور ساتھ اس کے یہ بھی چاہئے کہ ہر ایک قسم کے شرک سے پر ہیز ہو۔نہ سورج نہ چاند نہ آسمان کے ستارے، نہ ہوا، نہ آگ، نہ پانی نہ کوئی اور زمین کی چیز معبود ٹھہرائی جائے۔اور نہ دنیا کے اسباب کو ایسی عزت دی جائے اور ایسا ان پر بھروسہ کیا جائے کہ گویاوہ خدا کے شریک ہیں۔اور نہ اپنی ہمت اور کوشش کو کچھ چیز سمجھا جائے کہ یہ بھی شرک کے قسموں میں سے ایک قسم ہے۔بلکہ سب کچھ کر کے یہ سمجھا جائے کہ ہم نے کچھ نہیں کیا۔اور نہ اپنے علم پر کوئی غرور کیا جائے اور نہ اپنے عمل پر کوئی ناز، بلکہ اپنے تئیں فی الحقیقت جاہل سمجھیں اور کاہل سمجھیں اور خدا تعالیٰ کے آستانہ پر ہر ایک وقت روح گرمی رہے اور دعاؤں کے ساتھ اس کے فیض کو اپنی طرف کھینچا جائے۔اور اس شخص کی طرح ہو جائیں کہ جو سخت پیاسا اور بے دست و پا بھی ہے اور اس کے سامنے ایک چشمہ نمودار ہوا ہے نہایت صافی اور شیریں۔پس اس نے افتاں و خیزاں بہر حال اپنے تئیں اس چشمہ تک پہنچا دیا“۔( گرتے پڑتے اس تک پہنچ گئے ) ” اور اپنی لبوں کو اس چشمہ پر رکھ دیا اور علیحدہ نہ ہوا جب تک سیراب نہ ہوا“۔لیکچر لاہور۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 154 مطبوعہ ربوہ) اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو عاجزی میں بڑھاتے ہوئے ، تو گل میں بڑھاتے ہوئے، اپنے ایمان میں ترقی دینے کی توفیق عطا فرمائے۔خد اتعالیٰ کی تائید و نصرت کے نظارے ہم اپنے ساتھ بھی دیکھیں اور علم و عمل میں ترقی کرنے والے ہوں اور اس (نظارے) کو بھی اللہ تعالیٰ کے انعامات میں سے انعام سمجھیں۔ہم ہمیشہ تکبر اور دنیاداری سے بچتے رہیں۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ سے اپنی مدد اور نصرت کا جو سلوک رکھا ہمیں بھی ایسے عمل کی توفیق دے کہ ہم اس میں سے حصہ لیتے رہیں اور ہم اللہ تعالیٰ کے حضور ہمیشہ جھکنے والے رہیں اور ہمیشہ اس چشمے سے سیراب ہونے کی کوشش کرتے رہیں۔الفضل انٹر نیشنل جلد 17 شماره 10 مورخہ 5 مارچ تا 11 مارچ 2010 صفحہ 5 تا8)