خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 654 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 654

خطبات مسرور جلد ہشتم 654 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 دسمبر 2010 درخواستیں بھی یہی اندر میں حضور کو پہنچاتا تھا۔ایک دفعہ محمد علی ولد نعمت نے ایک عرضی کسی خاص دعا کے لئے لکھ کر عبد العزیز کو دی کہ حضور کو دے آؤ اور گھر جانے کی اجازت لے آؤ۔چونکہ ابھی سویرا ہی تھا اور حضور نماز فجر کے بعد رضائی اوڑھ کر بمعہ بچوں کے لیٹے ہوئے تھے۔یہ بھی بچہ تھا۔اس قدر ادب اور احترام کو نہیں سمجھتا تھا کہ حضور آرام کر رہے ہیں۔( حضرت مسیح موعود علیہ السلام بعض دفعہ ، بلکہ اکثر نماز فجر کے بعد آرام کیا کرتے تھے) یہ بچہ اندر گیا اور فوراً حضور کے چہرہ مبارک سے رضائی اٹھالی اور وہ رقعہ دیا اور ساتھ اجازت جانے کی بھی مانگی۔لکھتے ہیں قربان ہوں میرے ماں باپ کہ ذرا بھی حضور کے چہرہ مبارک پر ملال نہ آیا کہ ارے بیوقوف ! ہم کو بے آرام کر دیا بلکہ پیار سے کہا کہ اچھا اجازت ہے۔یہ تھے حضور کے اخلاق فاضلہ جس نے تمام مخلوقات کو اپنا گرویدہ بنالیا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ نمبر 3 صفحہ 72-73 روایت حضرت مولوی فتح علی صاحب۔غیر مطبوعہ ) حضرت بہاول شاہ صاحب ولد شیر محمد صاحب جو انبالہ کے تھے، لکھتے ہیں کہ اس عاجز کو اللہ تعالیٰ نے اپنے مسیح و مہدی سے کیونکر ملایا اور مل کر ان سے کیا فیض حاصل ہوا، اس کے متعلق خاص حالات ہیں۔میں اپنے وَحْدَهُ لا شَرِيك خدا کو حاضر ناظر جان کر جس کے آگے جھوٹ بولنا کفر و ضلالت اور جہنم حاصل کرنا ہے، بیان کرتا ہوں کہ مجھے خدا کے فضل سے دین کے ساتھ بچپن سے ہی محبت تھی۔تقریباً 30 سال کی عمر میں ایک سنت نبوی پر عمل کرنے اور اس میں کچھ کج روی پیدا ہونے کے باعث ایک فوجداری مقدمہ تین سال تک رہا جس میں تنگی و تکلیف کی کوئی حد نہ تھی۔میرے سے زیادہ گاؤں والوں کو تکلیف تھی کیونکہ اس کج روی کا وہی باعث تھے۔بچپن ہی سے مجھے کسی بچے رہبر و راہنما کی دل میں خواہش تھی۔کئی بزرگوں کی طرف نظر تھی دل کو اطمینان نہ تھا۔آخر میاں جی امام الدین صاحب چک لوہٹوی کی معرفت جو میرے استاد اور مولوی عبدالحق صاحب کے جو اس وقت زندہ، لیکن مسیح موعود سے منحرف ہیں کے والد تھے ( جو اس وقت زندہ ہیں لیکن مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نہیں مانا، ان کے والد تھے ) یعنی عبد الحق کے والد تھے۔جو میرے احمدی ہونے کے بعد احمدی ہو کر فوت ہوئے۔یعنی بیٹا احمدی نہیں ہوا۔والد احمدی ہوئے لیکن ان کے بعد۔ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو غریق رحمت کرے۔کہتے ہیں کہ مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی کی نسبت باتیں سننے میں آتیں اور فرمایا کرتے کہ زمانہ امام کو چاہتا ہے اور واقعی مرزا صاحب بچے امام ہیں۔لوگ ان کو برا کہتے ہیں۔میری طرف اور مولوی عبد الحق صاحب کی طرف مخاطب ہو کر فرماتے کہ دیکھنا تم ان کو کبھی برا نہ کہنا۔جب مولوی محمد حسین دہلی میں مولوی نذیر حسین صاحب کے پاس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر کفر کا فتویٰ لگانے کے لئے گئے تھے۔اس وقت میں اور مولوی عبد الحق، مولوی نذیر حسین کے پاس تعلیم حاصل کرنے کے لئے دہلی ہی میں تھے۔میں تو چھ ، سات ماہ