خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 653 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 653

653 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 دسمبر 2010 خطبات مسرور جلد هشتم حاصل ہوئی۔اور ان ہاتھوں کو حضور کی مٹھیاں بھرنے کا فخر ہے (یعنی کہ دبانے کا بھی فخر ہے)۔گو مجھے اعلان ہونے پر رنگارنگ کے مصائب پہنچے مگر خدا نے مجھے محفوظ ہی نہیں رکھا بلکہ اس نقصان سے بڑھ کر انعام عنایت کیا۔اور میرے والد اور میرے بھائی اور قریبی رشتہ دار احمدی ہو گئے۔اَلْحَمْدُ لِله۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ نمبر 3 صفحہ 58-59 روایت حضرت رحمت اللہ صاحب۔غیر مطبوعہ ) حضرت مولوی فتح علی صاحب احمدی منشی فاضل دوالمیال ضلع جہلم کہتے ہیں کہ میں نے 1904ء میں جمعہ بال بچہ آکر حضور مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کی اور حضور کی حیات مقدس میں ہر سال ہمعہ بال بچہ ہی حضور کی خدمت اقدس میں یہاں پہونچتا رہا اور جب کبھی حضور باہر نماز کے لئے تشریف لاتے اور مسجد میں بیٹھتے تو ہم دوالمیال کی جماعت جو پانچ سات کس تھے پاس بیٹھتے۔اور حضور کی زبان مقدس کے الفاظ سے فیض اٹھاتے اور چند دفعہ دعا کے لئے بھی عرض کی گئی تھی۔اس وقت وہ چھوٹی سی مسجد جس میں پانچ چھ آدمی بصد مشکل کھڑے ہو سکتے تھے۔پھر مسجد مبارک وسیع کی گئی۔ایک دفعہ ہماری جماعت کے امام مسجد مولوی کرم داد صاحب نے عرض کی کہ حضور ہماری مسجد میں قدیم سے ایک امام سید جعفر شاہ صاحب ہیں۔وہ حضور کے معتقد ہیں۔وہ آپ کو مانتے ہیں لیکن غیروں کی بھی گاہ بگاہ جنازوں میں یا نمازوں میں اقتداء کرتے ہیں (مانتے تو ہیں لیکن غیروں کے پیچھے ، مولویوں کے پیچھے نماز پڑھ لیتے ہیں)۔تو میں نے عرض کی کہ وہ شخص یہاں تک معتقد ہے کہ ایک دفعہ مجھ سے اس نے خط لکھوایا اور یہ لفظ لکھوائے کہ میں حضور کے کتوں کا بھی غلام ہوں۔اگر کسی وقت جہالت یا نادانی سے کمی بیشی ہو گئی ہو تو حضور فی سبیل اللہ معاف فرما دیں۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ جب وہ اب تک دنیا کی لالچ یا خوف سے غیروں کے پیچھے نماز یا جنازہ پڑھتا ہے ( جو تکفیر کرتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اُن کے پیچھے نماز پڑھتا ہے ) تو کب اس نے ہم کو مانا۔آپ اس کے پیچھے نمازیں مت پڑھیں۔درزی تھے، کہتے ہیں: میں نے اسی وقت حضرت ام المومنین کے حکم سے اندر سے سلائی مشین منگوائی اور حضرت صاحبزادہ شریف احمد کا جو اس وقت آٹھ دس سال کے ہوں گے گرم کوٹ تیار کر رہا تھا اور اس طرح انہوں نے تیار کیا اور وہ کہتے ہیں کہ ہم کھیوڑہ سے آیا کرتے تھے تو ہماری عورتوں نے کہا کہ دس گیارہ میل ہمیں پیدل پہاڑی سفر کرنا پڑتا ہے ، اس لئے ہم بستر نہیں لا سکتے۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ حامد علی (حامد علی صاحب جو آپ کے خدمت گار تھے) دوالمیال والوں کو رضائیاں اور بستر دے دیا کرو۔حضور کی برداشت کا ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ کسی کو کوئی تکلیف ہوتی تھی تو ہم حضور سے دوائیاں وغیرہ بھی منگوالیتے تھے۔کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میرا لڑکا عبد العزیز مرحوم جو سات آٹھ سال کا تھا جو میرے ساتھ بھی آتا رہا اور حضور کی درثمین کے اشعار نہایت خوش الحانی، خوش آوازی سے پڑھتا تھا( خوش الحانی سے پڑھا کرتا تھا)۔جلسوں میں بھی اور حضور کے اندر بھی آکر سناتا تھا۔حضور اس سے بہت پیار کرتے تھے۔دوالمیال والوں کی