خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 641 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 641

خطبات مسرور جلد ہشتم 641 51 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 دسمبر 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 دسمبر 2010ء بمطابق 17 فتح 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلهِ (البقرہ:16)۔اور جو لوگ مومن ہیں وہ سب سے زیادہ اللہ ہی سے محبت کرتے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کی محبت ہی ہے جو درجہ بدرجہ اللہ تعالیٰ کے پیاروں سے پیار اور محبت کی طرف مائل کرتی ہے۔اور ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس کوشش میں رہتے ہیں کہ کس طرح اُس دلدار کو راضی کریں۔حدیث میں بھی آتا ہے کہ جس روز خدا تعالیٰ کے سایہ عاطفت کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہو گا، اُس روز جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنے سایہ عاطفت میں لے گا اُن میں وہ دو لوگ بھی شامل ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں۔( بخاری کتاب الاذان باب من جلس في المسجد ينتظر الصلوة حديث نمبر 660) یہ اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اپنی شدید محبت کا اظہار ہو۔پس جب عام مومن کو ایک دوسرے سے اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس طرح نوازتا ہے تو جو اللہ تعالیٰ کے فرستادے اور نبی ہوتے ہیں اُن سے محبت کو خدا تعالیٰ کس طرح نوازے گا، اس کا تو اندازہ لگایا ہی نہیں جاسکتا۔یہ عشق و محبت کے عجیب نظارے ہیں جس کا آخری سرا اللہ تعالیٰ کی ذات ہوتا ہے۔کتنے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اپنے عشق و وفا کے نمونے دکھانے کے لئے اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور فرستادوں کا زمانہ پاتے ہیں۔یہ نمونے دکھانے کا موقع ہم میں سے بعض کے باپ دادا کو بھی ملا، آباؤ اجداد کو بھی ملا، جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وقت پایا اور اپنی محبت اور پیار اور عقیدت اور احترام کا اظہار براہ راست آپ سے کیا۔اور پھر آپ علیہ السلام کے پیار اور شفقت سے بھی حصہ لینے والے بنے۔صحابہ حضرت مسیح موعود کا پاکیزہ تذکرہ اور سیرت حضرت مسیح موعود اس وقت میں ایسے ہی چند بزرگوں کی روایات اور واقعات کا ذکر کروں گا۔وہ کیا ہی بابرکت وجود تھے جنہوں نے مسیح پاک علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھوں کو چھوا، آپ سے بر اور است فیض پایا۔