خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 40
خطبات مسرور جلد ہشتم 40 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2010 و رواج سے ہم بچے ہوئے ہیں لیکن جیسا کہ میں نے کہا بعض چیزیں راہ پارہی ہیں۔اگر ہم بے احتیاطیوں میں بڑھتے رہے تو یہ طوق پھر ہمارے گلوں میں پڑ جائیں گے جو آنحضرت ملا یہ کلم نے ہمارے گلوں سے اتارے ہیں اور جن کو اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اتارنے کی پھر نصیحت فرمائی ہے۔اور پھر ہم دین سے دور ہٹتے چلے جائیں گے۔اب ظاہر ہے جب ایسی صورت ہو گی تو پھر جماعت سے بھی باہر ہو جائیں گے۔کیونکہ جماعت سے تو وہی جڑ کر رہ سکتے ہیں جو نور سے حصہ لینے والے ہیں اور جو اللہ اور اس کے رسول اور کتاب سے حصہ لے رہے ہیں۔جو اللہ اور رسول اور اس کی کتاب سے حصہ نہیں لے رہے وہ نور سے بھی حصہ نہیں لے رہے۔جو نور سے حصہ لینے کی کوشش نہیں کر رہے وہ ایمان سے بھی دور جارہے ہیں۔تو یہ تو ایک چکر ہے جو چلتا چلا جاتا ہے۔پس ہر وقت اپنی حالتوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔آنحضرت صلی علیکم جو خود بھی نور تھے اور آسمان سے کامل نور آپ پر اترا تھا یہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ میرے دل اور میرے دیگر اعضاء میں نور رکھ دے۔(بخاری کتاب الدعوات باب الدعاء اذ انتبه من اللیل حدیث نمبر 6316) یہ دعا اصل میں تو ہمیں سکھائی گئی ہے کہ ہر وقت اپنی سوچوں اور اپنے اعضاء کو، اپنے خیالات کو ، اپنے دماغوں کو ، اپنے جسم کے ہر حصہ کو اللہ تعالیٰ کی تعلیم کے مطابق استعمال میں لانے کی کوشش کرو اور اس کے لئے دعا کرو کہ ذہن بھی پاکیزہ خیال رکھنے والے ہوں اور عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ایمانوں میں مضبوطی پیدا کرنے والے ہوں۔اللہ اور اس کے رسول کے قول پر عمل کرنے والے ہوں۔رسم و رواج سے بچنے والے ہوں۔دنیاوی ہو او ہوس اور ظلموں سے دور رہنے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کے نور سے ہم ہمیشہ حصہ پاتے چلے جائیں۔کبھی ہماری کوئی بد بختی ہمیں اس نور سے محروم نہ کرے۔الفضل انٹر نیشنل جلد 17 شماره 6 مورخہ 5 فروری تا 11 فروری 2010 صفحه 5 تا8)