خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 39 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 39

خطبات مسرور جلد ہشتم نے فرمایا کہ: 39 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2010 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک دعا ہے۔اللہ کو پانے کے لئے یہ دعا لکھی ہوئی ہے۔آپ ”اے میرے قادر خدا! اے میرے پیارے راہنما! تو ہمیں وہ راہ دکھا جس سے تجھے پاتے ہیں اہل صدق وصفا اور ہمیں ان راہوں سے بچا جن کا مدعا صرف شہوات ہیں یا کینہ یا بغض یا دنیا کی حرص و ہوا۔پیغام صلح۔روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 439 مطبوعہ ربوہ) پس ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ اپنے عہد کو نبھاتے ہوئے، اپنی بیعت کی حقیقت کو سمجھتے ہوئے حقیقی ایمان لانے والوں میں شامل ہوں۔ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہم اس نبی کے ماننے والے ہیں جنہوں نے ہمیں صحیح راستہ دکھایا۔ہمیں اچھے اور برے کی تمیز سکھائی۔اگر اس کے بعد پھر ہم دنیاداری میں پڑکر رسم و رواج یا لغویات کے طوق اپنی گردنوں میں ڈالے رہیں گے تو ہم نہ عبادتوں کا حق ادا کر سکتے ہیں نہ نور سے حصہ لے سکتے ہیں۔قرآن کریم میں ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی الی یوم کے بارے میں یہ فرمایا۔کہ يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهُهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيْتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبيثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ - (الاعراف: 158) کہ جو اس پر ایمان لانے والے ہیں وہ ان کو نیک باتوں کا حکم دیتا ہے اور انہیں بُری باتوں سے روکتا ہے اور ان کے لئے پاکیزہ چیزیں حلال قرار دیتا ہے اور ان پر ناپاک چیزیں حرام قرار دیتا ہے اور ان سے ان کے بوجھ اور طوق اتار دیتا ہے۔گر دنوں میں جو پھندے پڑے ہوئے ہیں وہ اتار دیتا ہے۔جو پھندے پہلی قوموں میں پڑے ہوئے تھے، پہلی نسلوں میں پڑے ہوئے تھے ، اپنے دین کو بھول کر رسم و رواج میں پڑ کر یہو دیوں اور عیسائیوں نے گلوں میں جو پھندے ڈالے ہوئے تھے اب وہی باتیں بعض مسلمانوں میں پید اہورہی ہیں۔اگر ہم میں بھی پیدا ہو گئیں تو پھر ہم یہ کس طرح دعوی کر سکتے ہیں کہ ہم اس وقت آنحضرت صلی للی نام کے پیغام کو دنیا میں پہنچانے کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں۔پس یہ طوق ہمیں اتارنے ہوں گے۔پس اس بات کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں کہ ہم اس نبی پر بھی ایمان لائے ہیں جس نے ہمارے لئے حلال و حرام کا فرق بتا کر دین کے بارہ میں غلط نظریات کے طوق ہماری گردنوں سے اتارے۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا کہ مسلمانوں کی بد قسمتی ہے کہ باوجود ان واضح ہدایات کے پھر بھی بعض طوق اپنی گردنوں پر ڈال لئے ہیں۔لیکن ہم احمدی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے عہد بیعت کے بعد اس حقیقت کو دوبارہ سمجھے ہیں کہ یہ طوق اپنی گردنوں سے کس طرح اتارنے ہیں۔اللہ کا احسان ہے کہ قبروں پر سجدے سے ہم بچے ہوئے ہیں۔پیر پرستی سے عموماً بچے ہوئے ہیں۔بعض جگہ اکاؤ کا شکایات آتی بھی ہیں۔عمومی طور پر بعض غلط قسم کے رسم