خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 531
خطبات مسرور جلد ہشتم 531 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 اکتوبر 2010 ہماری کوشش اس میں یہ ہونی چاہئے کہ بجائے لغویات میں وقت گزارنے کے، ان سہولتوں سے غلط قسم کے فائدے اٹھانے کے ان سہولتوں کا صحیح فائدہ اٹھائیں، ان کو کام میں لائیں۔اور اگر اُس گروہ کا ہم حصہ بن جائیں جو مسیح محمدی کے پیغام کو دنیا میں پہنچارہا ہے تو ہم بھی اس گروہ میں شامل ہو سکتے ہیں، ان لوگوں میں شامل ہو سکتے ہیں جن کی خدا تعالیٰ نے قسم کھائی ہے۔MTA اور اس کے کارکنان MTA کی تقریب پر میں نے انہیں یہی کہا تھا کہ آج MTA کا ہر کار کن چاہے وہ جہاں بھی دنیا میں کام کر رہا ہے، یا کسی بھی کونے میں جہاں کام کر رہا ہے ، وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیغام کو دنیا کے کنارے تک پہنچانے کا کام کر رہا ہے۔یہ کام تو خدا تعالیٰ نے کرنا ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ نے خود آپ سے فرمایا تھا کہ میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ ذرائع بھی پیدا فرمائے ہیں کہ آپ کا پیغام دنیا کے کناروں تک پہنچے۔پس یہ خدا تعالیٰ کی تقدیر ہے اور یہ تمام ایجادات اس کی شہادت دے رہی ہیں۔لیکن ہم اس سوچ کے ساتھ اگر یہ کام کریں کہ ہم اس تبلیغ کا حصہ بن کر خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والے بھی بن جائیں۔اور یہ اپنے آپ کو دیکھیں کہ آیا ہم بن رہے ہیں کہ نہیں تو تبھی اس کا صحیح حق ادا ہو گا۔ایسے کارکنوں کو تبھی ان کے حقیقی مقام کا احساس ہو گا جب وہ یہ جائزہ بھی لے رہے ہوں گے۔اور جب مقام کا احساس ہو گا تو اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے کی جو ذمہ داریاں ہیں اس طرف بھی توجہ پیدا ہو گی۔صرف ٹیکنیکل مدد یا کیمرے کے پیچھے کھڑے ہو جانا یا پروگرام بنالینا یا اسی طرح کے دوسرے کام کر دینا کافی نہیں ہو گا بلکہ پھر اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے کے لئے عبادتوں کی طرف بھی توجہ ہو گی۔ہر کام کے بہتر انجام کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف جھکاؤ ہو گا اور والنشرات نشرا کو سامنے رکھتے ہوئے صحابہ کے نقش قدم پر چلنے کی طرف توجہ پیدا ہو گی۔یعنی عبادتوں کے معیار کے ساتھ عملی کوششیں کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کے میسیج کی مدد کرنے کی طرف بھی توجہ ہو گی۔اس پیغام کو دنیا میں پھیلانے کے لئے کوشش ہو گی۔اور یہ بات صرف MTA تک محدود نہیں ہے یا بعض ویب سائٹس پر جواب دینے کے لئے کچھ لوگوں کی ٹیم بنادی جاتی ہے ، ان تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ہر فرد جماعت کو اس میں کردار ادا کرنا چاہئے۔صحابہ نے جو حق ادا کیا اسے ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اگر ہم نے اب تک وقت ضائع کیا ہے یا ہماری توجہ پیدا نہیں ہوئی یا احساس نہیں ہوا تو اب اپنے اندر احساس کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔گو کہ اتمام حجت تو ہو چکی ہے لیکن پھر بھی جس حد تک ہم اپنا کر دار ادا کر سکتے ہیں اس کو ادا کرنے کی کوشش کریں۔اگر اس طرح ہر احمدی اپنا کر دار ادا کرنے کی کوشش کرے تو انشاء اللہ تعالیٰ جلد ہی ہم ایک انقلاب دیکھیں گے کیونکہ زمانہ اب تیزی سے اس طرف آرہا ہے۔