خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 36 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 36

خطبات مسرور جلد ہشتم 36 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2010 تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ غمی کے موقعوں پر جو رسوم ہیں ان سے تو بچے ہوئے ہیں۔ساتواں دسواں، چالیسواں ، یہ غیر احمدیوں کی رسمیں ہیں ان پر عمل نہیں کرتے۔جو بعض دفعہ بلکہ اکثر دفعہ یہی ہوتا ہے کہ یہ رسمیں گھر والوں پر بوجھ بن رہی ہوتی ہیں۔لیکن اگر معاشرے کے زیر اثر ایک قسم کی بدر سومات میں مبتلا ہوئے تو دوسری قسم کی رسومات بھی راہ پاسکتی ہیں اور پھر اس قسم کی باتیں یہاں بھی شروع ہو جائیں گی۔صحیح اسلامی تعلیم پر عمل ہو پس ہر احمدی کو اپنے مقام کو سمجھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر احسان کرتے ہوئے اسے مسیح و مہدی کی جماعت میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔اب یہ فرض ہے کہ صحیح اسلامی تعلیم پر عمل ہو۔شادی بیاہ کے لئے اسلامی تعلیم میں جو فرائض ہیں وہ شادی کا ایک فرض ہے اس کے لئے ایک فنکشن کیا جاسکتا ہے۔اگر توفیق ہو تو کھانا وغیرہ بھی کھلایا جا سکتا ہے۔یہ بھی فرض نہیں کہ ہر بارات جو آئے اس میں مہمان بلا کے کھانا کھلایا جائے اگر دُور سے بارات آرہی ہے تو صرف باراتیوں کو ہی کھانا کھلایا جا سکتا ہے۔لیکن اگر ملکی قانون روکتا ہے تو کھانے وغیرہ سے رکنا چاہئے اور ایک محدود پیمانے پر صرف اپنے گھر والے یا جو چند باراتی ہیں وہ کھانا کھائیں۔کیونکہ پاکستان میں ایک وقت میں ملکی قانون نے پابندی لگائی ہوئی تھی۔اب کیا صورت حال ہے مجھے علم نہیں لیکن کچھ حد تک پابندی تواب بھی ہے۔دوسرے ولیمہ ہے جو اصل حکم ہے کہ اپنے قریبیوں کو بلا کر ان کی دعوت کی جائے۔اگر دیکھا جائے تو اسلام میں شادی کی دعوت کا یہی ایک حکم ہے۔لیکن وہ بھی ضروری نہیں کہ بڑے وسیع پیمانے پر ہو۔حسب توفیق جس کی جتنی توفیق ہے بلا کر کھانا کھلا سکتا ہے۔پس جیسا کہ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہمارا مقصد پیدائش بتایا ہے۔ہر وہ عمل جو نیک عمل ہے جو خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہے وہ عبادت بن جاتا ہے۔اگر یہ مد نظر رہے تو اسی چیز میں ہماری بقا ہے اور اسی بات سے پھر رسومات سے بھی ہم بیچ سکتے ہیں۔بدعات سے بھی ہم بچ سکتے ہیں۔فضول خرچیوں سے بھی ہم بیچ سکتے ہیں۔لغویات سے بھی ہم بیچ سکتے ہیں اور ظلموں سے بھی ہم بچ سکتے ہیں۔یہ ظلم ایک تو ظاہری ظلم ہیں جو جابر لوگ کرتے ہی ہیں۔ایک بعض دفعہ لاشعوری طور پر اس قسم کی رسم و رواج میں مبتلا ہو کر اپنی جان پر ظلم کر رہے ہوتے ہیں۔اور پھر معاشرے میں اس کو رواج دے کر ان غریبوں پر بھی ظلم کر رہے ہوتے ہیں جو کہ سمجھتے ہیں کہ یہ چیز شاید فرائض میں داخل ہو چکی ہے۔اور جس معاشرے میں ظلم اور لغویات اور بدعات وغیرہ کی یہ باتیں ہوں، وہ معاشرہ پھر ایک دوسرے کا حق مارنے والا ہوتا ہے اور پھر جیسا کہ میں نے کہا ایک دوسرے پر ظلم کرنے والا ہوتا ہے۔لیکن اگر ہم ان چیزوں سے بچیں گے تو ہم حق مارنے سے بھی بیچ رہے ہوں گے۔ظلموں سے بھی بیچ رہے ہوں گے