خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 32
خطبات مسرور جلد ہشتم 32 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2010 ادائیگی کے طریق بھی بیان فرمائے۔آئندہ آنے والی نئی ایجادات کے آنے اور ان سے انسان کے فائدہ اٹھانے کے بارہ میں بھی بیان فرما دیا۔زمین و آسمان میں جو بھی موجود ہے اس کے بارہ میں انسانی عقل و فراست کی حدود تک جتنی بھی، جہاں تک پہنچ ہو سکتی تھی اس کے سمجھنے کے بارہ میں بھی راہنمائی فرمائی۔ہر وہ چیز بیان فرما دی جن تک آج انسان کی عقل کی رسائی ہو رہی ہے بلکہ آئندہ پیش آمدہ باتوں کے بارہ میں بھی بیان فرما دیا جس کے بارہ میں آج سے 1400 سال پہلے کا انسان سمجھ نہیں سکتا تھا اور اس سے پہلے کا انسان تو بالکل بھی نہیں سمجھ سکتا تھا گو کہ اُس وقت جب یہ باتیں قرآن کریم میں بیان ہوئیں ایک عام مسلمان مومن سمجھ نہیں سکتا تھا۔لیکن ان سب باتوں کو انسان کامل اور حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ یمن کی فراست جو تھی اس وقت بھی سمجھتی تھی۔پس وہ ایک ایسا نور کامل تھے جو اللہ تعالیٰ کے نور سے منور تھا اور جنہوں نے اپنے صحابہ میں ان کی استعدادوں کے مطابق بھی وہ نور بھر دیا۔انہیں عبادتوں کے طریق بھی سکھائے۔انہیں عبادتوں کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی طرف بھی توجہ دلائی۔ان کو اپنے مقصد پیدائش کو سمجھنے کی طرف بھی توجہ دلائی۔اور پھر آپ صلی یہ کم سے وہ نور پا کر صحابہ نے اپنی استعدادوں کے مطابق پھر وہ نور آگے پھیلانا شروع کر دیا اور چراغ سے پھر چراغ روشن ہوتے چلے گے اور جن باتوں کا فہم اس وقت کا عام انسان نہیں کر سکتا تھا اس کے بارہ میں بھی بتادیا کہ اس کامل کتاب سے تا قیامت اب چراغ روشن ہوتے چلے جائیں گے اور آئندہ زمانہ کے مومنین اللہ تعالیٰ کے ان احسانوں کو دیکھ لیں گے۔ایک دنیا دار تو صرف دنیا کی نظر سے دیکھے گا لیکن ایک حقیقی مومن اپنے مقصد پیدائش کا حق ادا کرتے ہوئے اُن کو اس نظر سے دیکھے گا کہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئی کے مطابق آج ہی یہ چیزیں پیدا ہوئی ہیں۔مومن کی نظر صرف ان ایجادات سے اور ان دنیاوی چیزوں سے دنیاوی فائدوں تک ہی محدود نہیں ہو گی بلکہ وہ اپنے مقصد پیدائش کو سمجھتے ہوئے اس حقیقی نور سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا جو اللہ تعالیٰ کے سب سے پیارے نبی اور افضل الرسل صلی ال نیم لے کر آئے تھے۔جس طرح ضلالت اور گمراہی کے اندھیروں میں بھٹکے ہوئے لوگ آج سے 14 سو سال پہلے اس نبی کے نور سے فیضیاب ہوئے تھے اور ہر میدان میں اعلیٰ معیاروں کو چھونے لگے۔اسی طرح اب تا قیامت جو بھی اس رسول اور اس کامل شریعت سے حقیقی تعلق جوڑے گا، ظلمتوں سے نور کی طرف نکلتا چلا جائے گا اور دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کی جنتوں کا وارث بنتا چلا جائے گا۔اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ اس کا ذکر سورۃ طلاق کی آیت 12 میں یوں فرمایا ہے رَسُولًا يَتْلُوا عَلَيْكُمْ أَيْتِ اللهِ مُبَيِّنَتٍ لِيُخْرِجَ الَّذِيْنَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ مِنَ الظُّلمتِ إِلَى النُّوْرِ ۖ وَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا يُدْخِلْهُ جَنْتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهُرُ خَلِدِينَ فِيهَا اَبَدًا قَدْ أَحْسَنَ اللهُ لَهُ رِزْقًا - (الطلاق:12 ) کہ ایک رسول کے طور پر جو تم پر اللہ کی روشن کر دینے والی آیات تلاوت کرتا ہے تاکہ ان