خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 381
خطبات مسرور جلد ہشتم 381 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 جولائی 2010 حضرت شیخ محمد اسماعیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے جو سر ساوا ضلع سہارنپور کے تھے۔1894ء میں شیخ انہوں نے بیعت کی ہے۔لکھتے ہیں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس زمانہ کے مولویوں اور صوفیوں پر بھی افسوس کیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ حق سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کے بندوں کو راستی سے ہٹانے میں پہلوں سے بھی زیادہ زور لگایا تا اللہ تعالیٰ کے بندے راستی کو قبول نہ کریں۔اگر اللہ تعالیٰ مجھے یہ تسلی نہ دیتا کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پھیلاؤں گا اور تجھے نامراد نہیں ہونے دوں گا۔تو یہ جو مولویوں کی بک بک ہے پتہ نہیں کیا تکلیف دیتی ؟ فرمایا کہ اگر یہ لوگ میری آہ و بکاہ کو سن لیں کہ میں کس طرح ان لوگوں کی بہتری اور ہدایت کے لئے خدا تعالیٰ کے حضور روتا ہوں کہ اے میرے مالک، میرے محسن تو آپ ان پر رحم فرما اور ان کے دلیڈروں کو دور کر دے اور ان کو صراط مستقیم پر چلا اور ان کو گمراہی کے گڑھے میں گرنے سے بچالے۔میں بار بار الہی آستانہ پر ان کے لئے گرتا ہوں کہ الہی یہ بے خبر ہیں کہ میں ان کے لئے تیرے سے کیا کیامانگتا ہوں۔اللہ اللہ جب حضور نے یہ الفاظ منہ سے فرمائے تو ہم تصویر ہی بنے ہوئے تھے کہ یہ پاک وجود اللہ تعالیٰ کے بندوں کا ایسا خیر خواہ ہے ؟ یہ بالکل صحیح ہے اللہ تعالیٰ جن پاک وجودوں کو اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے بھیجتا ہے وہ اس کے بندوں کے لئے درد مند اور سچے خیر خواہ ہوتے ہیں۔اس کے بندوں کے لئے اس قدر بے تاب ہوتے ہیں کہ ماں باپ بھی ایسے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔لکھتے ہیں کہ کیونکہ میں نے آپ کے کرب کی آوازیں سنی ہوئی ہیں۔( تو مجھے تو اندازہ ہے کہ کس طرح بے تابی ہوتی تھی)۔(ماخوز از رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ) جلد6 صفحہ 98-97) حضرت شیخ محمد اسماعیل صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن شیخ مسیتا صاحب سکنہ سر ساوا ضلع سہارن پور کی ایک روایت یہ بھی ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے دوستوں میں اپنی قوت قدسیہ سے یہ اثر پیدا کر دیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کو کار ساز یقین کرتے تھے اور کسی سے ڈر کر جھوٹ جیسی نجاست کو اختیار نہیں کرتے تھے اور حق کہنے سے رکتے نہیں تھے اور اخلاق رذیلہ سے بچتے تھے اور اخلاق فاضلہ کے ایسے خوگر ہو گئے تھے کہ وہ ہر وقت اپنے خدا پر ناز کرتے تھے کہ ہمارا خدا ہمارے ساتھ ہے۔یہ یقین ہی تھا کہ آپ کے دوستوں کے دشمن ا ذلیل وخوار ہو جاتے تھے اور آپ کے دوست ہر وقت خدا تعالیٰ کے شکر گزار ہی رہتے تھے اور خدائے تعالیٰ کی معیت ان کے ساتھ ہی رہتی تھی اور آپ کے دوستوں میں غنا تھا اور خدائے تعالیٰ پر ہی بھروسہ رکھتے تھے اور حق کہنے سے نہ رکھتے تھے اور کسی کا خوف نہ کرتے تھے۔اعمال صالحہ کا یہ حال تھا کہ ان کے دل محبت الہی سے ابلتے رہتے تھے اور جو بھی کام کرتے تھے خالص لتہی سے ہی کرتے تھے۔ریا جیسی ناپاکی سے متنفر رہتے تھے کیونکہ ریا کاری کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خطر ناک بد اخلاقی فرمایا کرتے تھے کہ اس میں انسان منافق بن جاتا ہے۔میں نے اپنے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آنکھوں کے پر دے کبھی اوپر اٹھے ہوئے نہیں دیکھے تھے۔ہمیشہ آپ کی آنکھوں کے پر دے آپ کی آنکھوں کو ڈھکے ہی رکھتے تھے۔اتنی حیا آپ کی آنکھوں میں تھی۔مگر جب کبھی اللہ تعالیٰ کے کسی دشمن کا ذکر یا آنحضرت علی علیم کا ذکر آپ کرتے تو آپ کی آنکھوں کے