خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 146 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 146

خطبات مسرور جلد ہشتم 146 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 مارچ 2010 اقبال احمد سلّمہ ابھی بچہ ہی تھا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اور میری اہلیہ اور عزیز موصوف سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے گھر میں مقیم ہیں اور اس وقت مجھے یہ بھی محسوس ہوا کہ میری اہلیہ حضرت اقدس کی لڑکی ہے اور عزیز موصوف حضور کا نواسہ ہے۔پھر میں نے دیکھا کہ میں اور میرا یہ لڑکا سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاؤں دبا رہے ہیں کہ حضور علیہ السلام مجھے دعا دیتے ہوئے فرماتے ہیں ( پنجابی میں فرمایا کہ ”جا تینوں کوئی لوڑ نہ رئے“۔یہ پنجابی زبان کا ایک فقرہ ہے۔جس کے معنی یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ تیری سب حاجتیں (خواہشیں پوری کرے۔(تجھے کسی قسم کی حاجت نہ رہے )۔اس خواب کے بعد ( مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ) واقعی آج تک خدا تعالیٰ میری ہر ایک ضرورت کو مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ پورا فرما رہا ہے۔جہاں سے گمان بھی نہیں ہو تا وہاں وہاں سے میری ضرورتیں پوری ہو جاتی ہیں اور میرے گھر والے اور میرے پاس رہنے والے اکثر لوگ اس روحانی بشارت کو اپنی آنکھوں سے پورا ہوتا دیکھ رہے ہیں۔(ماخوذ از حیات قدسی حصہ دوم صفحہ 138 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ) اس طرح مولوی صاحب کے بھی اور بے شمار واقعات ہیں۔آپ کی کتاب بھی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : صل رازق خدا تعالیٰ ہے۔وہ شخص جو اس پر بھروسہ کرتا ہے کبھی رزق سے محروم نہیں رہ سکتا۔وہ ہر طرح سے اور ہر جگہ سے اپنے پر توکل کرنے والے شخص کے لئے رزق پہنچاتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو مجھ پر بھروسہ کرے اور توکل کرے میں اس کے لئے آسمان سے برساتا اور قدموں میں سے نکالتا ہوں۔پس چاہئے کہ ہر ایک شخص خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرے“۔( ملفوظات جلد 5 صفحہ 273 مطبوعہ ربوہ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں رنگین ہو جاؤ۔انبیاء اس کی صفات میں ہو بہور نگین ہوتے ہیں اور سب سے بڑھ کر آنحضرت ملی یک کم کی ذات سے اس کا اظہار ہوتا ہے۔کہ آپ کسی طرح خد اتعالیٰ کے رنگ میں رنگین تھے۔اس بارے میں بعض احادیث ہیں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم صلی علی کرم نے فرمایا کہ اگر میرے پاس اُحد پہاڑ کے برابر سونا بھی ہو تا تو یہ بات میرے لئے زیادہ خوشی کا باعث ہوتی کہ تین دن اور تین راتیں گزرنے پر اس میں سے میرے پاس کچھ بھی باقی نہ رہتا سوائے اس حصہ کے جسے میں قرض کی ادائیگی کے لئے بچا کے رکھ لیتا۔( صحیح بخاری کتاب الاستقراض و اداء الديون باب اداء الديون حدیث نمبر 2389) یعنی اتنی زیادہ دولت بھی ہوتی تو مجھے پسند نہیں کہ میرے پاس رہے۔بے حساب تقسیم کرتا چلا جاتا۔پھر ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت موسیٰ بن انس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسولِ کریم