خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 72 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 72

خطبات مسرور جلد ہشتم 72 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 فروری 2010 زیادتی کرنے والوں سے زیادتی کرواتا چلا جائے۔زیادتی کرنے والوں کو یہ احساس نہیں ہو تا کہ میں کیا کر رہا ہوں۔وہ ظلموں کی انتہا کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم اثم اور عدوان یا بار بار کئے جانے والے گناہ اور زیادتی سے نہیں رکو گے تو یاد رکھو اللہ تعالیٰ سزا دینے میں بڑا سخت ہے۔ایسی خوبصورت تعلیم ہوتے ہوئے پھر یہ الزام اسلام پر لگایا جاتا ہے کہ ظلم و زیادتی سے اسلام پھیلا ہے اور اسلام زیادتی کرتا ہے اور ظلم کرتا ہے اور آئے دن کہیں نہ کہیں ان ملکوں میں اسلام کے خلاف کچھ نہ کچھ شوشے چھوڑے جاتے ہیں۔لیکن آج کل اگر ہم دیکھیں تو مغرب میں کیا ہو رہا ہے۔عراق وغیرہ پر یا بعض اور ملکوں میں جو ظلم کئے جارہے ہیں، عراق کے ظلموں کا حال تو ہم نے سن لیا جو پبلک انکوائری ہو رہی ہے اس میں بہت ساروں نے تسلیم کیا کہ یہ ظلم تھا اور ہے لیکن ظلم کے باوجود بعض ایسے بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ بالکل ٹھیک ہوا ہے اور ہو نا چاہئے تھا۔لیکن اسلام کہتا ہے کہ نہیں، تقویٰ کا یہ کام نہیں۔جہاں تمہاری غلطی ہے اس غلطی کو مانو اور جہاں صلح صفائی کی ضرورت ہے یا نیک کاموں میں بڑھنے کی ضرورت ہے وہاں تقویٰ سے کام لیتے ہوئے نیکیوں کو پھیلاؤ۔زیادتیوں سے اپنے آپ کو رو کو اور اگر یہ نہیں ہو گا تو پھر یہ چیز اللہ تعالیٰ کی نظر میں ایک مومن کو سزا کا مستحق بناتی ہے۔جب غیروں کو اس قدر تاکید ہے تو اپنوں سے حسن سلوک کس قدر ہونا چاہئے۔اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : یہ دستور ہونا چاہئے کہ کمزور بھائیوں کی مدد کی جاوے اور اُن کو طاقت دی جاوے۔یہ کس قدر نامناسب بات ہے کہ دو بھائی ہیں ایک تیر نا جانتا ہے اور دوسرا نہیں تو کیا پہلے کا یہ فرض ہو نا چاہئے کہ وہ دوسرے کو ڈوبنے سے بچاوے یا اس کو ڈوبنے دے۔اس کا فرض ہے کہ اس کو غرق ہونے سے بچائے۔اسی لئے قرآن شریف میں آیا ہے تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوی ( المائدہ:3) کمزور بھائیوں کا بار اٹھاؤ، عملی، ایمانی اور مالی کمزوریوں میں بھی شریک ہو جاؤ۔بدنی کمزوریوں کا بھی علاج کرو۔کوئی جماعت جماعت نہیں ہو سکتی جب تک کمزوروں کو طاقت والے سہارا نہیں دیتے اور اس کی یہی صورت ہے کہ اُن کی پردہ پوشی کی جاوے۔صحابہ کو یہی تعلیم ہوئی کہ نئے مسلموں کی کمزوریاں دیکھ کر نہ چڑو، کیونکہ تم بھی ایسے ہی کمزور تھے۔اسی طرح یہ ضروری ہے کہ بڑا چھوٹے کی خدمت کرے اور محبت ملائمت کے ساتھ برتاؤ کرے“۔فرمایا: ”دیکھو وہ جماعت جماعت نہیں ہو سکتی جو ایک دوسرے کو کھائے اور جب چار مل کر بیٹھیں تو ایک اپنے غریب بھائی کا گلہ کریں اور نکتہ چینیاں کرتے رہیں اور کمزوروں اور غریبوں کی حقارت کریں اور ان کو حقارت اور نفرت کی نگاہ سے دیکھیں۔ایسا ہر گز نہیں چاہئے بلکہ اجماع میں چاہئے کہ قوت آجاوے اور وحدت پیدا ہو جاوے جس سے محبت آتی ہے اور برکات پیدا ہوتے ہیں۔کیوں نہیں کیا جاتا ہے کہ اخلاقی قوتوں کو وسیع کیا جاوے