خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 69 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 69

خطبات مسرور جلد ہشتم 69 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 فروری 2010 رکھتی ہے، جو فحشاء سے روکتی ہے، جو حسنات کا وارث بناتی ہے۔ظاہری اور باطنی فواحش سے انسان محفوظ رہتا ہے۔ایسی نمازوں کے حصول کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہماری مزید راہنمائی فرمائی ہے۔فرمایا کہ: نماز سے دنیا بھی سنور جاتی ہے اور دین بھی ”نماز ایسی چیز ہے کہ اس سے دنیا بھی سنور جاتی ہے اور دین بھی۔نماز تو وہ چیز ہے کہ انسان اس کے پڑھنے سے ہر ایک طرح کی بد عملی اور بے حیائی سے بچایا جاتا ہے مگر اس طرح کی نماز پڑھنی انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتی۔اور یہ طریق خدا کی مدد اور استعانت کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا اور جب تک انسان دعاؤں میں نہ لگا رہے اس طرح کا خشوع اور خضوع پیدا نہیں ہو سکتا۔اس لئے چاہئے کہ تمہارا دن اور تمہاری رات غرض کوئی گھڑی دعاؤں سے خالی نہ ہو“۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 403 ایڈیشن مطبوعہ ربوہ) پس ہمیں اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی یاد سے اپنے دلوں کو بھرنے کی ضرورت ہے تا کہ آج دنیا میں فحشاء اور بے حیائیوں کے جو ہر طرف نظارے نظر آتے ہیں ان سے ہم بچے رہیں۔کیونکہ اس کے بغیر شیطان ہمیں ایسے گناہوں کی طرف لے جاتا ہے جو اثہ کہلاتے ہیں ، جن میں انسان ڈوبتا چلا جاتا ہے، جو ہمیں اپنے فرائض کے بجالانے سے روکے رکھتے ہیں، غلطیوں پر غلطیاں سرزد ہوتی چلی جاتی ہیں، اللہ تعالیٰ کے حکموں کی نافرمانی کرتے چلے جاتے ہیں۔اس لئے فرمایا کہ بغاوت سے بھی بچو۔یہ بھی حرام ہے۔اگر احساس پید انہ کیا تو تمام حدود قیود جو ہیں ان کو تم توڑ دو گے۔تمہیں احساس نہیں رہے گا کہ کون سے عمل احسن ہیں اور صالح ہیں اور کون سے غیر صالح۔بعض نمازیں پڑھنے والے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی حدود کو توڑ رہے ہوتے ہیں۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ نمازوں کا صحیح مقام حاصل کرنے کے لئے بھی خدا تعالیٰ کی مدد اور استعانت کی ضرورت ہے اور اس کے لئے ہر وقت خدا تعالیٰ کا خوف رکھنے کی ضرورت ہے۔ہر قسم کے شرک سے اپنے آپ کو پاک رکھنے کی ضرورت ہے۔پس جب یہ صور تحال پیدا ہو گی تبھی ایک مومن حقیقی مومن کہلائے گا اور بے حیائی کی باتوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکے گا۔پھر سورۃ بقرہ میں اللہ تعالیٰ اس کے حوالہ سے بعض اور برائیوں کا بھی ذکر فرماتا ہے۔فرمایا کہ يَسْتَدُونَكَ عَنِ الْخَيْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا اثْهُ كَبِيرُ وَ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِمَا (البقرة:220) کہ وہ تجھ سے شراب اور جوئے کے متعلق سوال کرتے ہیں تو کہہ دے کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لئے فوائد بھی۔اور دونوں کا گناہ ( کا پہلو ) جو ہے ان کے فائدے سے بڑھ کر ہے۔شراب اور جوئے کے بارہ میں پہلے فرمایا کہ ان میں بڑا گناہ ہے۔اور پھر فرمایا کہ ان میں خدا تعالیٰ نے