خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 60
خطبات مسرور جلد ہشتم 60 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جنوری 2010 جاتے ہیں۔جبکہ ایک بوہڑ کے درخت کے پاس جو زنانہ جلسہ گاہ ہے تشریف لے گئے۔تو اچانک پھر کر دیکھا تو مجھ کو کہا کہ تم میرے پیچھے مت آؤ۔چنانچہ میں اس درخت کے نیچے ٹھہر گیا۔آپ اس درخت کے قریب دو فرلانگ جا کر ایک چھوٹے سے درخت کے سائے میں بیٹھ گئے۔اور میر اخیال ہے کہ قریب 15 منٹ وہاں بیٹھے رہے ( یا کچھ عرصہ) چونکہ فاصلہ زیادہ تھا۔میں نہ معلوم کر سکا کہ آپ دعا کر رہے ہیں یا کیا۔اس وقت مجھ کو خیال آیا کہ کیونکہ حضور نے مجھے اپنے ساتھ آنے سے منع کیا تھا۔میں واپس آگیا اور اپنی والدہ مرحومہ کو اس واقعہ کا ذکر کیا۔اس وقت ظہر کی اذان ہوئی تو حضور بھی تشریف لے آئے۔وہاں میں نے دیکھا کہ حضور کا چہرہ چمک رہا تھا۔( یقیناً اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ خوشخبری ملی ہو گی)۔(ماخوذر جسٹر روایات صحابہ حضرت مسیح موعود غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 12 صفحہ 89-88) پھر ایک روایت مولوی فضل الہی صاحب قادیان کی ہے۔کہتے ہیں کہ ایک دفعہ کا واقعہ مجھے یاد آگیا کہ بعد نماز مغرب حضور شہ نشین پر مشرق کی طرف رخ فرمائے تشریف فرما تھے اور چاند کی تاریخ پندرہ یا سولہ غالباً تھی۔اندھیرے میں جب مشرق سے چاند طلوع ہوا تو یہ عاجز مغرب کی طرف (حضور کے چہرہ مبارک کی طرف) منہ کر کے بیٹھا ہوا تھا۔مجھے نظر آیا کہ حضور کے چہرہ مبارک سے شعاعیں نکلتی ہیں اور چاند کی شعاعوں سے ٹکراتی نظر آتی ہیں۔(رجسٹر روایات صحابہ حضرت مسیح موعود غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 12 صفحہ 326 روایات مولوی فضل الہی صاحب) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ” 1904ء میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لاہور تشریف لے گئے تو وہاں ایک جلسہ میں آپ نے تقریر فرمائی۔ایک غیر احمدی دوست شیخ رحمت اللہ صاحب وکیل بھی اس تقریر میں موجود تھے۔وہ کہتے ہیں کہ دوران تقریر میں میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود کے سر سے نور کا ایک ستون نکل کر آسمان کی طرف جا رہا تھا۔اس وقت میرے ساتھ ایک اور دوست بھی بیٹھے ہوئے تھے۔میں نے انہیں کہا۔دیکھو وہ کیا چیز ہے۔انہوں نے دیکھا تو فوراً کہا کہ یہ تو نور کا ستون ہے جو حضرت مرزا صاحب کے سر سے نکل کر آسمان تک پہنچا ہوا ہے۔اس نظارہ کا شیخ رحمت اللہ صاحب پر ایسا اثر ہوا کہ انہوں نے اسی دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کرلی“۔( تفسیر کبیر جلد ہفتم صفحہ 121 مطبوعہ ربوہ) حضرت میاں غلام محمد صاحب ارائیں پھیر و چیچی ضلع گورداسپور روایت کرتے ہیں کہ ”میں نے 1907ء میں بیعت کی اور متواتر ہم اسی طرح جمعہ پڑھنے جاتے رہے۔بعد میں حضور لاہور گئے اور ہمیں معلوم ہوا کہ حضور اسہال کی بیماری کی وجہ سے وفات پاگئے اور مخالفین نے مشہور کیا کہ اب یہ سلسلہ ختم ہو گیا اور وفات کے