خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 57
57 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جنوری 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم ایک چھوٹی سی مسجد پر نظر پڑی۔میں نے کہا کہ مسجد میں ہی رات گزار لیتے ہیں، صبح قادیان تو چلے جانا ہے۔کہتے ہیں کہ مسجد میں میں ابھی گیا ہی تھا۔تھوڑا وقت ہوا تھا تو ایک شخص آیا اور آکر کہا کہ تم کون ہو۔میں نے کہا مسافر ہوں قادیان جانا ہے۔اس نے گالی دیتے ہوئے سختی سے کہا کہ خبیث مرزائی آکر مسجد کو خراب کر جاتے ہیں۔صبح مسجد دھونی پڑے گی تم یہاں سے نکل جاؤ۔میں نے کہا میں تو یہاں آیا ہوں۔میں تو رات گزاروں گا۔میں نے نہیں جانا۔کس طرح تم مجھے خدا کے گھر سے نکال سکتے ہو ؟ تو پھر وہ گالیاں دیتا ہوا چلا گیا۔کہتے ہیں صبح کی نماز میں نے پہلے وقت میں پڑھ لی اور قادیان کی طرف روانہ ہوا۔مسجد مبارک میں جب میں پہنچا تو پہنچنے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک کھر کی میں سے مسجد مبارک میں تشریف لائے۔میں نے جب حضور کو دیکھا تو بے اختیار میری زبان سے نکلا کہ یہ تو سراپا نور ہی نور ہے۔یہ تو سچوں اور راستبازوں کا چہرہ ہے۔یہ وہی شخص ہے جس کی بابت اخبار الحکم میں کلمات طیبات حضرت امام الزمان پڑھا کرتا تھا اور جس مقدس وجود کی مجھے تلاش تھی۔(ماخوذ از اصحاب احمد جلد ہفتم صفحہ 202-201 مطبوعہ ربوہ ) پھر حضرت محمد صدیق صاحب آف گو گھیاٹ کی ایک روایت رجسٹر روایات صحابہ میں ہے۔کہتے ہیں کہ ”مجھے نبی اللہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا شرف زیارت بطفیل عمویم جناب مولوی فخر الدین صاحب سابق ہیڈ کلرک کیمل کو ر حال مہاجر محلہ دارالفضل قادیان غالباً مارچ 3ء میں ہوا جبکہ آپ مجھے اپنے ہمراہ گھر سے قادیان دارالامان لے گئے۔میری عمر اس وقت کوئی دس سال کی ہو گی۔ہم بے شمار لوگ بہلی کے ساتھ ساتھ پیدل قادیان آئے۔راستے میں سکھ اور غیر لوگ بھاگ بھاگ کر پہلی کا پردہ ہٹا ہٹا کر زیارت کرتے۔( چھوٹی بیل گاڑی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیٹھے ہوئے تھے۔کور (Covered) تھی ، پر دہ تھا۔اس کا پردہ اٹھا کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت کیا کرتے تھے )۔اور ترس ترس کر دیکھتے تھے۔میں اگر چہ خدا تعالیٰ کے فضل سے پیدائشی احمدی تھا مگر مسجد مبارک میں تین چار دوستوں سمیت حضور کے دست مبارک پر ہاتھ رکھ کر بھی بیعت کرنے کا موقعہ نصیب ہو گیا۔بعد بیعت حضور نے لمبی دعا فرمائی۔بیعت کے کلمات کہلواتے وقت جو در د اور انکسار حضور کی زبان مبارک اور منور چہرہ سے ظاہر ہو تا تھا اس کا نقشہ تو کوئی بشر کیا کھینچ سکتا ہے۔“ (رجسٹر روایات صحابہ حضرت مسیح موعود غیر مطبوعہ۔رجسٹر۔جلد اوّل۔صفحہ 25-24 روایات حضرت محمد صدیق صاحب آف گھو گیاٹ) پھر حضرت فضل احمد صاحب پٹواری حلقه گورداس ننگل، تحصیل گورداسپور روایت کرتے ہیں کہ ”جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بعد فراغت مقدمہ مولوی کرم الدین صاحب دارالامان تشریف لائے تو آپ شام کے وقت تشریف لائے اور نماز مغرب میں کچھ دیر ہو گئی۔حضور جس وقت مسجد میں تشریف لائے تو مسجد میں اجالا ہو گیا۔وہ روشنی فدوی کی آنکھوں میں اب تک موجزن ہے۔“ (رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ جلد اوّل صفحہ 49 روایت فضل احمد صاحب پٹواری ) پھر حضرت چوہدری علی محمد صاحب گوندل چک 99 شمالی ضلع سرگودھا لکھتے ہیں کہ حضرت صاحبزادہ