خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 53
خطبات مسرور جلد ہشتم 53 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جنوری 2010 حضرت مرزا بشیر احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ : ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ آپ ( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام) کے تمام خلیہ کا خلاصہ ایک فقرہ میں یہ ہو سکتا ہے کہ آپ مردانہ حسن کے اعلیٰ نمونہ تھے۔مگر یہ فقرہ بالکل نا مکمل رہے گا اگر اس کے ساتھ دوسرا یہ نہ ہو کہ ”یہ حسن انسانی ایک روحانی چمک دمک اور انوار اپنے ساتھ لئے ہوئے تھا۔“ اور جس طرح آپ جمالی رنگ میں اُمت کے لئے مبعوث ہوئے تھے اسی طرح آپ کا جمال بھی خدا کی قدرت کا نمونہ تھا اور دیکھنے والے کے دل کو اپنی طرف کھینچتا تھا۔آپ کے چہرہ پر نورانیت کے ساتھ رعونت، ہیبت اور استکبار نہ تھے بلکہ فروتنی، خاکساری اور محبت کی آمیزش موجود تھی۔۔آپ کا رنگ گندمی اور نہایت اعلیٰ درجہ کا گندمی تھا۔یعنی اس میں ایک نورانیت اور سرخی جھلک مارتی تھی اور یہ چمک جو آپ کے چہرہ کے ساتھ وابستہ تھی عارضی نہ تھی بلکہ دائی تھی۔کبھی کسی صدمہ ، رنج، ابتلاء مقدمات اور مصائب کے وقت آپ کا رنگ زرد ہوتے نہیں دیکھا گیا اور ہمیشہ چہرہ مبارک کندن کی طرح دمکتا رہتا تھا۔کسی مصیبت اور تکلیف نے اس چمک کو دور نہیں کیا۔علاوہ اس چمک اور نور کے آپ کے چہرہ پر ایک بشاشت اور تبسم ہمیشہ رہتا تھا اور دیکھنے والے کہتے تھے کہ اگر یہ شخص مفتری ہے اور دل میں اپنے تئیں جھوٹا جانتا ہے تو اس کے چہرہ پر یہ بشاشت اور خوشی اور فتح اور طمانیت قلب کے آثار کیونکر ہو سکتے ہیں۔یہ نیک ظاہر کسی بد باطن کے ساتھ وابستہ نہیں رہ سکتا اور ایمان کا نور بد کار کے چہرہ پر درخشندہ نہیں ہو سکتا“۔(سیرت المہدی جلد اوّل روایت نمبر 447 صفحہ 411-410 مطبوعہ ربوہ) آپ کے حسن کا، آپ کے نور کا کیا خوبصورت نقشہ کھینچا ہے لیکن یہ ظاہری نور بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس لئے دیا تھا کہ آپ نور مصطفوی میں ڈوب کر اپنے وجود کو کلیتاً اپنے آقا و مطاع کے جسمانی اور روحانی نور میں فنا کر چکے تھے تا کہ آپ کے نور میں بھی نور محمد ی نظر آئے۔اپنے ایک فارسی کلام میں آپ فرماتے ہیں۔وارث مصطفی شدم به یقین شده رنگین به رنگ یار حسین ( نزول المسیح روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 477) کہ میں یقیناً مصطفی کا وارث اس حسین یار کے رنگ میں حسین ہو کر بن گیا ہوں۔فرمایا لیک آئینہ ام زرب غنی از بیٹے صورت میر مدنی ( نزول المسیح روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 478) لیکن رب غنی کی طرف سے آئینہ کی طرح ہوں اس مدنی چاند کی صورت دکھانے کے لئے۔پس آپ کا اپنا تو کچھ نہ تھا۔روح و جسم نور محمدی کا آئینہ دار تھا۔عبادات میں ، عادات میں، اخلاق میں غرض ہر چیز میں اپنے آقا و مطاع کے منہ کی طرف دیکھ کر اس کی پیروی کرتے تھے۔اپنے اس پیارے مسیح و مہدی