خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 674 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 674

خطبات مسرور جلد ہشتم 674 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31دسمبر 2010 بھی ہوئی، یہ قربانیاں انشاء اللہ کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی بلکہ نہیں جار ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا کہ احمدیت کا پیغام اور تعارف اسلام کی امن پسند تعلیم کا پیغام دنیا کے ہر کونے میں کثرت سے پہنچنا، یہ ان قربانیوں کا ہی نتیجہ ہے اور یہ سلسلہ چلتا چلا جارہا ہے۔یقیناً یہ بات ان قربانیوں کی قبولیت کا ایک حصہ ہے، ایک جزو ہے اور آئندہ دنیا کے افق پر احمدیت کی جو فتوحات اُبھر رہی ہیں، وہ اس سے بہت بڑھ کر انشاء اللہ تعالیٰ اس چمک کا نظارہ دکھانے والی ہیں۔پس ہمارا کام یہ ہے کہ جس طرح ہمارے قربانیاں کرنے والوں کی قربانیوں کو قبول کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے انہیں اُن لوگوں کے زمرہ میں شامل فرمایا ہے، جن کے بارے میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ اَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَا عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ (آل عمران: 170)۔جو لوگ اپنے ربّ کے حضور مارے گئے تم انہیں مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے۔پس وہ تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس دائگی رزق کو پانے والے ہیں جو ہر لمحہ اُن کے درجات بلند کر رہا ہے۔یہاں اموات کے لفظ کے ساتھ اس آیت کا یہ مطلب بھی ہو گا کہ جس کا خون رائیگاں نہیں جاتا۔اور دوسرے یہ کہ جو اپنے پیچھے اپنے نقش قدم پر چلنے والے چھوڑ جاتے ہیں۔پس ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ ہم نیکیوں میں بڑھنے کے لئے اپنے قربانیاں کرنے والوں کی نیکیوں کو بھی زندہ رکھیں۔اللہ تعالیٰ کے فرشتے ان کی قربانیوں کی وجہ سے جو کامیابیاں ملی ہیں ان سے بھی انہیں آگاہ کرتے رہتے ہیں۔جس پر وہ اپنی زندگیاں قربان کرنے کے بعد بھی خوش ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا بھی حاصل کر لی اور ان کی قربانیاں بھی انتہائی نتیجہ خیز ثابت ہوئیں۔اس کا نقشہ سورۃ آلِ عمران میں اس طرح کھینچا گیا ہے کہ فَرِحِینَ بما انتهُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ وَ يَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِم مِّنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (ال عمران (171) بہت خوش ہیں اس بات پر جو اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے اور وہ خوشخبریاں پاتے ہیں اپنے پیچھے رہ جانے والوں کے متعلق جو ابھی اُن سے نہیں ملے کہ ان پر بھی کوئی خوف نہیں ہو گا اور وہ غمگین نہیں ہوں گے۔پس ان شہداء کی قربانیاں ہمارے ایمانوں میں بھی اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔اللہ تعالیٰ کی اس خوشخبری کو سن کر کہ وہ خوشخبریاں پارہے ہیں اور پیچھے رہنے والوں کے بارہ میں خوشخبریاں پارہے ہیں، اس بارہ میں بہت سے خطوط خط لکھنے والے شہداء کے ورثاء مجھے لکھتے ہیں کہ ہم خواب میں فلاں شہید کو ملے، اپنے شہید کو ملے، بھائی کو ملے ، باپ کو ملے ، بیٹے کو ملے۔اُس نے کہا کہ میں بہت خوش ہوں۔یہاں عجیب نرالا سلوک مجھ سے ہو رہا ہے۔تم لوگ تو اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔جب ہم اُن سے اُن کی خوشی کے اظہار سن کر اس یقین پر پختہ ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو خاص رزق دے رہا ہے ، اُن کے لئے خوشی کے سامان بہم پہنچارہا ہے تو اس بات پر بھی ہمارا یقین بڑھتا ہے کہ اللہ تعالی پیچھے رہ جانے والوں کی کامیابیوں کے بارہ میں جو انہیں خوشخبریاں دے رہا ہے وہ بھی لا