خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 673 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 673

خطبات مسرور جلد ہشتم 673 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 31 دسمبر 2010 تمہیں خدا کے سپر د کیا۔اگر شہادت مقدر ہے ، خبریں آرہی ہیں، لوگ شہید ہوئے ہیں تو جرآت سے جان اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرنا۔کسی قسم کی بزدلی نہ دکھانا۔بہر حال اس بچے کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ کیا۔آپریشن سے گولی نکال دی گئی۔تو جس قوم کی ایسی مائیں ہوں جو اپنے بیٹوں کو شہادت کے لئے تیار کر رہی ہوں، ایسے لواحقین جن شہداء کے ہوں جو افسوس پر آنے والوں کو تسلی دلا رہے ہوں تو ایسا جان دینا جو ہے وہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی یا سزا کے طور پر نہیں ہوا کرتا۔دلوں کی تسلی اور تسکین کے لئے یہ سامان خدا تعالیٰ کے خاص فضل سے ہوتے ہیں۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ میں تو جب بھی شہداء کے لواحقین سے بات کرتا ہوں تو پر عزم آوازیں ہی سننے میں ملتی ہیں۔پس غیر ممالک سے افسوس کے لئے جانے والوں کے ایمان میں اضافہ ، ماؤں کا اپنے بیٹوں کو شہادت کے لئے تیار کرنا اور پر عزم جذبات کا اظہار ، یہ خدا تعالیٰ کا فضل نہیں تو اور کیا چیز ہے ؟ پس ہم تو وہ قوم ہیں جو دشمن سے ڈر کر کبھی اپنے خدا کا دامن نہیں چھوڑتے۔ہم تو وہ قوم ہیں جو خوف اور بھوک اور مال اور جان کی قربانی کرنے سے ڈر کر خدا تعالیٰ کا دامن چھوڑنے والے نہیں۔اپنے پیارے خدا سے بے وفائی کرنے والے نہیں۔بلکہ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ کہہ کر پھر اپنے خدا کے پیار کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ اپنے پیارے خدا کی رضا حاصل کر کے خوش قسمت لوگوں میں شامل ہو جائیں۔جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنت حاصل کرنے والے ہیں اُن لوگوں میں شامل ہو جائیں۔بہت سے ایسے ہیں جو مجھے خط لکھتے ہیں اور یقین دلاتے ہیں کہ وہ ان لوگوں میں ہیں جن کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وَمِنْهُم مَّنْ يَنْتَظِرُ (الاحزاب : 24) اور ان میں سے ایسے بھی ہیں جو انتظار کر رہے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کے ہاں اُن سے قربانی لینا ہی مقدر ہے تو انشاء اللہ تعالیٰ وہ اس میدان میں ثابت قدم رہیں گے۔پس کسی کا یہ اعتراض کہ کس طرح تم سال کے ابتداء اور سال کے اختتام کے بابرکت ہونے اور سال کے بابرکت ہونے کی بات کرتے ہو ، ان پر عزم اور خدا کی رضا حاصل کرنے والے لوگوں کے جواب سے باطل ہو جاتا ہے۔کثرت سے دنیا بھر میں احمدیت کا پیغام پہنچنا اللہ تعالیٰ نے جس کثرت سے اس سال احمدیت کے خوبصورت پیغام کو دنیا کے امیر ملکوں میں بھی اور دنیا کے غریب ملکوں میں بھی متعارف کروانے کا سامان پیدا فرمایا ہے یہ خدا تعالیٰ کے بے انتہا فضلوں اور برکتوں کا ہی نظارہ ہے۔اس سال میں ان شہداء کی قربانیوں نے جس طرح ہمیں اپنے جذبات پر کنٹرول رکھتے ہوئے اسلام کے خوبصورت اور پر امن پیغام کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا موقع دیا ہے ، اس کثرت سے جماعت کا تعارف اور اسلام کا پیغام پہلے کبھی نہیں پہنچا۔مختلف ذرائع ، مختلف میڈیا، چاہے وہ یورپ میں ہے ، امریکہ میں ہے ، افریقہ میں ہے، ایشیا میں ہے یہ سب دوسرے ذرائع اور میڈیا استعمال ہوئے۔قومیں اپنے مقاصد میں قربانیاں دے کر ہی کامیاب ہوتی ہیں۔یہ قربانیاں جو شہدائے پاکستان نے دی ہیں، دیتے رہے ہیں، جس کی انتہا 2010ء کے سال میں