خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 672
672 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31دسمبر 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم دھمکیاں بھی ہیں کہ ہم ابھی بہت کچھ تم سے کریں گے۔یہ لوگ انسانیت سے عاری ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ساتھ خدا تعالیٰ کے سلوک کو نہیں دیکھا کہ خدا تعالیٰ اُن سے کیا کر رہا ہے۔جن آفات نے انہیں گھیر اہے اُس سے عبرت حاصل نہیں کی بلکہ اس کا بھی الٹا اثر ہو رہا ہے۔اور اُن کی حالت قرآنِ کریم میں جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے ، قَسَتْ قُلُوبُهُمْ (الانعام : 44) والی ہے۔اُن کے دل ان چیزوں کو دیکھ کر اور بھی سخت ہو گئے ہیں اور شیطنت میں بڑھتے چلے جارہے ہیں۔وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَنُ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الانعام:44) اور شیطان نے جو وہ کرتے تھے انہیں اور بھی خوبصورت کر کے دکھایا، یہ لوگ اس چیز کا مصداق بن رہے ہیں۔پس یہ لوگ اس بات پر خوش نہ ہوں کہ احمدیوں کی جانیں ہم نے لے لی ہیں اور ہم مزید تنگ کریں گے ، مزید ان پر تنگیاں وارد کرنے کی کوشش کریں گے۔جو کچھ ان کو شیطان نے خوبصورت کر کے دکھایا ہے اس کا ذکر تو خدا تعالیٰ نے پہلے ہی قرآن شریف میں فرما دیا ہے کہ ایسے لوگ یہی کچھ کیا کرتے ہیں اور اس کے بعد خدا تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے لئے ایک بہت سخت انذار بھی کیا ہے۔شہداء کے گھرانوں کے نیک اور ایمان افروز جذبات جہاں تک ہمارے شہیدوں کے گھروں کا تعلق ہے۔انہوں نے تو ان شہادتوں پر کسی بھی قسم کا جزع فزع کرنے کی بجائے اپنے جذبات کو خدا تعالیٰ کے حضور اس طرح پیش کیا کہ ان کی سوچوں کے دھارے ہی بدل گئے ہیں۔مختلف ممالک سے میں نے شہداء کے لواحقین سے ملنے کے لئے وہاں کے مقامی احمدیوں کو بھجوایا تھا۔اور یہ وفود جب شہداء کی فیملیوں سے مل کر آتے ہیں تو اپنے ایمانوں میں بھی ترقی پاتے ہیں۔گزشتہ دنوں افریقہ کے بعض ممالک سے وفود بھجوائے تھے۔ان میں ایک وفد غانا کا تھا۔اُس میں غانا کے امیر اور مشنری انچارج وہاب آدم صاحب بھی تھے اور ایک اور احمدی دوست تھے ، طاہر ھامنڈ (Homond) صاحب جو گھا نین احمدی ہیں اور گھانا کی پارلیمنٹ کے ممبر بھی ہیں۔یہ لوگ واپسی پر مجھ سے مل کر گئے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ان شہداء کے عزیزوں، والدین، بیوی بچوں سے مل کر ہمارے ایمان میں اضافہ ہوا۔جو رویے ہم نے وہاں دیکھے ہیں ہم سوچ ہی نہیں سکتے تھے۔ہم انہیں تسلی دیتے تھے تو وہ آگے سے ہمیں ایمان کی مضبوطی کا اظہار کرتے ہوئے تسلی دیتے تھے۔یہ دوست کہتے ہیں کہ ہماری آنکھوں میں جذبات سے مغلوب ہو کر آنسو آتے تھے تو وہ کہتے تھے ہمیں تو ہمارے جانے والے تمغے لگا گئے ہیں۔تو ان شہداء کے خاندانوں کا یہ رویہ تھا اور ہے۔ایک احمدی طالب علم جو تھوڑا عرصہ ہوا یہاں یو کے میں تعلیم کے لئے آئے ہیں، کل ہی مجھے ملنے آئے تھے۔اُس نے مجھے بتایا کہ آج میں آپ سے اپنی ماں کی ہمت کی ایک بات کرنا چاہتا ہوں۔اس طالب علم لڑکے کو مسجد میں دو گولیاں لگی تھیں۔کہتا ہے میں جو زخمی ہو اہوں تو ماں کو فون کر کے بتایا کہ اس طرح گولیاں لگی ہیں اور خون بہہ رہا ہے تو ماں نے جواب دیا کہ بیٹا میں نے