خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 671
خطبات مسرور جلد ہشتم 671 53 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31دسمبر 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 31 دسمبر 2010ء بمطابق 31 فتح 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: آج اس سال کا آخری دن ہے، یعنی گریگورین کیلنڈر کے حساب سے جو آج کل دنیا میں رائج ہے یہ آخری دن ہے۔گو کہ اسلامی سال کے پہلے مہینے کا آخری عشرہ بھی شروع ہو چکا ہے لیکن چونکہ دنیا میں اس وقت رائج کیلنڈر یہی ہے جس کو مسلمان بھی اور غیر مسلم بھی سب اچھی طرح جانتے ہیں اور یہی تمام دنیا میں اب رواج پاچکا ہے۔اس لئے عموما نے سال کے شروع ہونے کی مبارکبادیں بھی اس کیلنڈر کے حساب سے دی جاتی ہیں۔اور رواں سال کے آخری دن کو بھی اسی حساب سے الوداع کہا جاتا ہے۔عموماً الوداع کہنے کا رواج تو کم ہے لیکن نئے سال کے پہلے دن کا استقبال بڑے ذوق اور شوق اور شور و غل اور ہنگامے سے کیا جاتا ہے۔اور اس استقبال میں دنیا کے ہر ملک اور ہر قوم کا باشندہ اپنی اپنی بساط اور رواج کے مطابق حصہ لیتا ہے تو بہر حال جیسا کہ میں نے کہا، آج کے دن کا ذکر اس لئے ہے کہ آج یہ اس سال کا، 2010ء کا آخری دن ہے۔جمعہ کا بابرکت دن ہر سال آخری دن آتا ہے اور گزر جاتا ہے، کوئی اہمیت نہیں ہے، لیکن اس سال ہمارے لئے سال کا یہ آخری دن بھی مبارک ہے۔اس لئے کہ اس سال کا اختتام آج جمعہ کے بابرکت دن سے ہو رہا ہے۔یہ 2010ء کا سال جس کا آغاز بھی جمعہ سے ہوا تھا، جو بابرکت دن تھا اور جس کا اختتام بھی جمعہ سے ہو رہا ہے جو جیسا کہ میں نے کہا ایک بابرکت دن ہے۔کہنے والے کہہ سکتے ہیں اور کہتے بھی ہیں کہ اچھا بابرکت دن ہے۔بعض فتنہ پرداز، بعض مخالفین بھی احمدیوں کے جذبات کو انگیخت کرنے کے لئے کہ تمہارے لئے اچھا سال ہے جس میں جماعت احمدیہ کو تقریباً سو افراد کی جان کی قربانی دینی پڑی، سو گھر اپنے باپوں، خاوندوں اور بچوں کے لئے رورہا ہے۔اگر بعض غیر از جماعت لوگوں نے ہماری شہادتوں پر ہمدردی کا اظہار کیا ہے تو ایسے بھی ظالم ہیں اور کافی تعداد میں ہیں جو سخت دل ہیں، جنہوں نے ان شہادتوں کے حوالے سے سخت الفاظ استعمال کئے ہیں اور کرتے چلے جارہے ہیں۔بلکہ مسلسل