خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 661
661 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 دسمبر 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم سال میں ایک نسل جو پیدا ہوئی اب بھر پور جوانی میں ہے ، اور وہ جو نوجوان تھے ، وہ انصار اللہ میں شامل ہو گئے ، بلکہ پچپن سال سے اوپر کے انصار اللہ کی صف اول میں چلے گئے ہوں گے۔جو بچے جوان ہوئے انہیں شاید ڈیوٹیوں کا تجربہ نہ ہو یا احساس نہ ہو اور ہو بھی نہیں سکتا کیونکہ وہاں جلسے نہیں ہو رہے سوائے اُن گھروں کے جن میں جلسے کا ذکر چلتارہتا ہے بلکہ میں امید کرتا ہوں کہ ربوہ کے جو پرانے گھر ہیں، پرانے رہنے والے ہیں اُن میں جلسے کا یہ ذکر چلتا رہتا ہو گا۔اگر نہیں تو ذکر ہونا چاہئے تا کہ آنے والے بچے بھی اور نسل بھی اس ماحول اور اُس جذبے کو تازہ دم رکھیں۔اس لئے نہیں کہ نئی نسل حسرت کرے بلکہ اس لئے کہ نئی نسل اپنے اندر ایک عزم پیدا کرے۔مایوس نہ ہو بلکہ ایک عزم ہو کہ عارضی پابندیاں ہماری روح کو مردہ نہیں کر سکتیں، ہمیں مایوس نہیں کر سکتیں، ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے اور اس سے مانگتے چلے جانے میں روک نہیں بن سکتیں۔ہمارے ایمان اور یقین کو ڈگمگا نہیں سکتیں کہ پتہ نہیں اب وہ دن دوبارہ دیکھنے نصیب بھی ہوں گے یا نہیں جب ہر بچہ بوڑھا اور جوان ایک جوش اور ایک ولولے سے اُس زمانے میں جلسے کی تیاریوں اور ڈیوٹیوں میں حصہ لیتا تھا۔جب ہر جلسہ سننے والا اپنی روح کی سیر ابی کے سامان کرتا تھا۔یہ باتیں نئی نسل کو بھی علم ہونی چاہئیں۔جو بعد میں پیدا ہونے والے بچے ہیں اُن کو بھی علم ہونی چاہئیں۔بلکہ گزشتہ پندرہ سولہ سال میں جو بچے پیدا ہوئے وہ بھی اب جوان ہو گئے ہیں، اُن کو بھی پتہ ہونا چاہئے کہ جلسے کے دن کیسے ہوتے تھے ؟ ربوہ جب ایک غریب دلہن کی طرح سجا کرتا تھا۔بازار سجتے تھے۔عارضی بازار بنتے تھے تاکہ لاکھوں کی تعداد میں آنے والے مہمانوں کی ضروریات زندگی اُن کی پسند کے مطابق مہیا کی جات سپیشل ٹرینیں اور بسیں آیا کرتی تھیں۔ہر گھر اپنی بساط اور توفیق کے مطابق اپنے گھر کو مہمانوں کی آمد کے لئے صاف کرتا تھا۔آرام دہ بنانے کی کوشش کرتا تھا، سجاتا تھا۔گھروں کے صحنوں میں زائد رہائش کے لئے خیمے نصب کئے جاتے تھے کیونکہ اکثر گھر اتنے چھوٹے تھے کہ مہمانوں اور میز بانوں کی رہائش کا انتظام بغیر خیموں کے ممکن نہ تھا۔بعض گھروں والے اپنے گھر کے سارے کمرے مہمانوں کے سپر د کر دیتے تھے اور خود باہر صحنوں میں خیموں کے اندر چلے جاتے تھے۔غرضیکہ قربانی کے عجیب نظارے ہوتے تھے جو اہل ربوہ دکھارہے ہوتے تھے۔ہر چہرے پر خوشی ہوتی تھی کہ ہم مہمانوں کی خدمت کر رہے ہیں۔یہ رونقیں دوبارہ قائم ہوں گی پس جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ باتیں ہمیشہ کے لئے خواب و خیال نہیں بن گئیں۔یہ ہمیں مایوس کرنے والی نہیں ہیں بلکہ انشاء اللہ تعالیٰ یہ رونقیں دوبارہ قائم ہوں گی اور ضرور ہوں گی۔ہمارا فرض ہے کہ خد اتعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہوں۔اُس سے مانگتے چلے جائیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ہم تو اس بات پر یقین رکھتے ہیں جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک نبی کے حوالے سے قرآنِ کریم میں ذکر فرمایا ہے کہ مَنْ تَقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبَّةَ إِلَّا الضَّالُونَ ( الحجر : 57) اور گمراہوں کے سوا اپنی رب کی رحمت سے کون مایوس ہوتا