خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 659
خطبات مسرور جلد ہشتم 659 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 دسمبر 2010 مبارک کے چھونے سے دور ہو گئے۔یہ حضور کی ہی کرامت نہیں تو اور کیا ہے۔مجھے مردہ میں گویا روح آگئی۔حضور نے میرا ہاتھ نہیں چھوڑ ا جب تک کہ ہر قسم کی تکلیف خاکسار کی دور نہ ہو گئی۔اس سے پیشتر میرا جسم پتھر تھا۔ہلنا دشوار تھا۔میرے خیال میں مردہ کو زندہ کرنا اسی کو کہتے ہیں۔میں نے محسوس کیا کہ گویا میں گورداسپور گیا ہی نہیں تھا۔حضور نے حکم دیا کہ کھانا لاؤ۔خاکسار کو بھی حضور نے ساتھ ہی بٹھالیا۔میں نے حضور کے ساتھ کھانا کھایا۔یہ حضور کی مہربانی اور خاص شفقت تھی۔میری کوشش ہوتی تھی کہ میرا نام کسی طرح حضور کے منہ پر چڑھ جائے اور حضور میرا نام لیں۔اور یہ مختلف مواقع بیان کئے ہیں کہ اس طرح موقعے پیدا ہوتے رہے حضور میر انام لیتے رہے اور ذاتی طور پر مجھے جانتے تھے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ نمبر 4 صفحہ 82 تا 87 روایت حضرت مد دخان صاحب۔غیر مطبوعہ ) تو یہ ان بزرگوں کے واقعات ہیں جو میں پہلے بھی ایک دو دفعہ سنا چکا ہوں۔وقتاً فوقتاً بیان کرتا ہوں کہ خاص طور پر اُن خاندانوں کو جن کے بزرگ ہیں، یہ یادر ہے کہ اُن بزرگوں کے کس قدر ہم پر احسان ہیں۔ورنہ شاید آج بہت سوں میں اتنی جرات نہ ہوتی کہ حق کو اس طرح قبول کر لیتے جس جرات سے اُن بزرگوں نے قبول کیا۔پس ان بزرگوں کی نسلوں کو بہت زیادہ اپنے بزرگوں کے لئے دعائیں بھی کرنی چاہئیں اور پھر ساتھ ہی اپنے ایمان کی ترقی اور استقامت کے لئے بھی دعائیں کرنی چاہئیں۔نیز ان بزرگوں کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جو تعلق تھا اس کو سامنے رکھتے ہوئے، اُن کے نمونوں پر ، ان کے نقش قدم پر چلنے کی ہمیشہ کوشش کرنی چاہئے۔وہ لوگ ایسے تھے جن میں سے بعض میں علم کی کمی بھی تھی لیکن علمی اور روحانی پیاس بجھانے کے لئے وہ لوگ ایک تڑپ رکھتے تھے جو انہوں نے بجھائی اور ایک سچے عاشق ثابت ہوئے۔اور اسی طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ سے بھی تعلق پیدا کیا، جیسا کہ بعض واقعات میں ابھی سنا۔پس یہ وہ محبت اور وفا کے نمونے ہیں جو آگے نسلوں کو بھی قائم رکھنے چاہئیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت اور وفا کے ان نمونوں کو قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل جلد 18 شماره 1 مورخہ 7 جنوری تا 13 جنوری 2011 صفحہ 5 تا10)