خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 655
خطبات مسرور جلد هشتم 655 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 دسمبر 2010 کے بعد واپس اپنے استاد کی خدمت میں چک لوہٹ حاضر ہو گیا لیکن مولوی عبد الحق صاحب دہلی میں پڑھتے رہے۔مولوی محمد حسین نے دہلی سے واپس آکر ہمارے ارد گرد کے گاؤں میں حضرت صاحب کو لوگوں سے کافر کہلوانے کی خاطر دورہ شروع کیا۔میاں جی امام الدین صاحب کے پاس بھی پہنچے لیکن انہوں نے ہر گز برانہ کہا اور یہ جواب دیا کہ آپ نے جو کفر کا محل تیار کیا ہے اس میں میرے لئے اینٹ لگانے کو کونسی جگہ خالی ہے۔آپ عالم ہیں۔آپ ہی کو مبارک ہو۔آخر محمد حسین ناامید ہو کر چلا گیا۔مجھے منشی عبد اللہ صاحب سنوری جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نیچے خادم تھے اور ان کا ذکر خیر اکثر مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتابوں میں نہایت خوبی سے کیا ہے ، ان سے محبت تھی۔جب مقدمہ نے زیادہ طول پکڑا تو مولوی عبد اللہ صاحب سنوری اور مولوی عبد الحق صاحب نے حضور مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں دعا کروانے کے لئے بھیجا۔جب میں بٹالہ سے چلا اور لوگوں سے مسیح موعود علیہ السلام کی نسبت حالات دریافت کرنے شروع کئے تو جو بھی ملتا وہ یہی کہتا کہ وہاں مت جاؤ۔وہ ایسے ہیں ویسے ہیں۔مولوی برا کہتے ہیں تم بھی برے یعنی کافر ہو جاؤ گے۔مگر میں ان کو کہتا کہ اب تو میں آگیا ہوں جو بھی خدا کرے۔اگر سچ ہوا پھر تو میں خدا کے فضل سے مولویوں سے ہر گز نہیں ڈرتا۔آخر میں 11 ستمبر 1898ء کو دارالامان پہنچا۔تھوڑا سادن باقی تھا۔حضور مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مسجد مبارک کے اوپر تشریف فرما تھے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ مفتی صادق صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اور بھی چند اصحاب خدمت میں حاضر تھے۔ایک مولوی عبد القادر صاحب مرحوم لدھیانوی سیڑھیوں کے قریب مسجد مبارک کے اوپر کھڑے تھے۔یہ مولوی عبد الحق صاحب کے صرف ونحو کے استاد تھے اور مجھ سے بھی واقف تھے۔وہ بڑی خوشی اور تپاک سے مجھ سے ملے اور مجھے انہیں دیکھ کر بڑی خوشی حاصل ہوئی۔انہوں نے فرمایا کہ تم بیعت کرنے کے لئے آئے ہو۔میں نے کہا۔دعا کر وانے کے لئے آیا ہوں۔پھر فرمایا کہ تم مولویوں سے ڈرتے ہو۔میں نے کہا نہیں۔مولویوں سے تو نہیں ڈرتا۔حضور کی سچائی تو مجھے حضور کے چہرہ مبارک کو دیکھنے سے ہی ظاہر ہوگئی کہ یہ منہ جھوٹ بولنے والا نہیں ہے۔اتنے میں سورج غروب ہونے کے قریب چلا گیا۔ایک اور شخص کئی روز سے حضور کی خدمت میں بیعت کے لئے آیا ہوا تھا۔اس نے عرض کیا کہ حضور میری بیعت لے لیں۔میں نے گھر کو واپس جانا ہے۔حضور نے جواب فرمایا کہ ٹھہر و، خوب تسلی کرنی چاہئے۔پھر اور باتوں میں مشغول ہو گئے۔مولوی عبد القادر صاحب نے میری نسبت حضور کی خدمت میں خود ہی عرض کیا کہ یہ شخص بیعت کرنا چاہتا ہے۔حضور اسی وقت جو کسی قدر اونچے بیٹھے تھے، نیچے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ آؤ جس نے بیعت کرنی ہے ( وہ شخص تو پہلے ہی پاس بیٹھا تھا جو پہلے بیعت کرنا چاہتا تھا)۔میں سیڑھیوں پر سے کھڑا حضور کی طرف چلا۔دو تین ہاتھ کے فاصلہ پر رہا تو میرے دل پر ایسی کشش ہوئی جیسے کوئی رشتہ پا کر اپنی طرف کھینچتا ہے۔میری چھینیں نکل گئیں اور بے