خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 652
خطبات مسرور جلد ہشتم 652 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 دسمبر 2010 دل میں شعلہ عشق بڑھتا گیا۔میں نے مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کو لکھا کہ حضرت مرزا صاحب عیسیٰ علیہ السلام کی وفات تمیں آیات سے ثابت کرتے ہیں۔آپ براہ مہربانی حیات کے متعلق جو آیات و احادیث ہیں تحریر فرما دیں۔اور ساتھ جو تھیں آیات قرآنی جو حضرت مرزا صاحب لکھتے ہیں تردید فرما کر میرے پاس بھجوا دیں۔میں شائع کرادوں گا۔جواب آیا کہ آپ عیسی کی حیات و ممات کے متعلق حضرت مرزا صاحب یا اُس کے مریدوں سے بحث مت کرو۔کیونکہ اکثر آیات وفات ملتی ہیں۔( قرآن کریم میں اگر دیکھنا ہے تو پھر وہاں تو وفات کی آیات ہی ملتی ہیں) یہ مسئلہ اختلافی ہے۔لکھتے ہیں کہ یہ مسئلہ اختلافی ہے۔اُن غیر احمدی مولوی صاحب نے لکھا کہ یہ مسئلہ اختلافی ہے اس امر پر بحث کرو کہ مرزا صاحب کس طرح مسیح موعود ہیں ؟ جواب میں عرض ہوا کہ اگر حضرت عیسی فوت ہو گئے ہیں تو حضرت مرزا صاحب صادق ہیں۔جواب ملا کہ آپ پر مرزا صاحب کا اثر ہو گیا ہے۔میں دعا کروں گا۔جواب میں کہتے ہیں۔میں نے عرض کیا کہ آپ اپنے لئے دعا کریں۔آخر میں آستانہ الوہیت پر گرا اور میرا قلب پانی ہو کر بہہ نکلا۔گویا میں نے عرش کے پائے کو ہلا دیا۔عرض کی خدایا مجھے تیری خوشنودی در کار ہے۔میں تیرے لئے ہر ایک عزت کو نثار کرنے کو تیار ہوں اور ہر ایک ذلت کو قبول کروں گا۔تو مجھ پر رحم فرما۔تھوڑے ہی عرصہ میں میں اس ذات کی قسم کھاتا ہوں جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ بوقت صبح قریباً چار بجے 25 دسمبر 1893ء بروز سوموار جناب سید نا حضرت محمد مصطفی صلی علیم کی زیارت نصیب ہوئی۔تفصیل اس خواب کی یہ ہے کہ خاکسار موضع بیرمی میں نماز عصر کا وضو کر رہا تھا کہ کسی نے مجھے آکر کہا کہ رسول عربی آئے ہوئے ہیں اور اسی ملک میں رہیں گے۔میں نے کہا کہاں ؟ اس نے کہا یہ خیمہ جات حضور کے ہیں۔میں جلد نمازادا کر کے گیا۔حضور چند اصحاب میں تشریف فرما تھے۔بعد سلام علیکم مجھے مصافحہ کا شرف بخشا گیا۔میں یہ ادب بیٹھ گیا۔حضور عربی میں تقریر فرمارہے تھے۔خاکسار اپنی طاقت کے موافق سمجھتا تھا۔اور پھر اردو بولتے تھے۔فرمایا میں صادق ہوں۔میری تکذیب نہ کرو۔وغیرہ وغیرہ۔لکھتے ہیں کہ میں نے کہا آمَنَّا وَ صَدَّقْنَا يَا رَسُولَ اللهِ۔تمام گاؤں مسلمانوں کا تھا۔میں حیران تھا کہ خدایا! یہ کیا ماجرا ہے؟ آج مسلمانوں کے قربان ہونے کا دن تھا۔گویا حضور کا ابتدائی زمانہ تھا۔گو مجھے اطلاع دی گئی تھی کہ حضور اسی ملک میں تشریف رکھیں گے مگر حضور نے کوچ کا حکم دیا۔میں نے روکر عرض کی حضور جاتے ہیں۔میں کس طرح مل سکتا ہوں۔میرے شانہ پر حضور نے (آنحضرت صلی للہ ہم نے) اپنا دستِ مبارک رکھ کر فرمایا کہ گھبراؤ نہیں ہم خود تم کو ملیں گے۔کہتے ہیں اس کی تفہیم مجھے یہ ہوئی کہ حضرت مرزا صاحب رسولِ عربی ہیں۔مجھے فعلی رنگ میں سمجھایا گیا۔کہتے ہیں میں نے بیعت کا خط لکھ دیا۔مگر بتاریخ 27 دسمبر 1898ء قادیان حاضر ہو کر بعد نماز مغرب بیعت کرنے کا شرف حاصل ہوا اور خدا کے فضل نے مجھے وہ استقامت عطا فرمائی کہ کوئی مصائب مجھے تزلزل میں نہیں ڈال سکے۔مگر یہ سب حضور کی صحبت کا طفیل تھا جو بار بار