خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 651
651 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 دسمبر 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم ( آج برف پڑنے کی وجہ سے ٹریفک زیادہ تھا، اس لئے لیٹ ہو گیا، حالانکہ نکلا بھی پہلے تھا لیکن جمعہ شروع ہونے کے بعد اب دھوپ نکل آئی ہے۔چلیں تھوڑی دیر آپ لوگ صبر سے انتظار کر لیں۔وقت تو میں اگر پورا نہیں تو کم از کم زائد ضرور لوں گا۔) حضرت غلام رسول صاحب رضی اللہ عنہ چانگریاں تحصیل پسرور ، ڈاکخانہ پھلورہ ضلع سیالکوٹ لکھتے ہیں کہ ”خاکسار خدا کے فضل و کرم سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ میں داخل ہے۔میں نے 1901ء میں یا 1902ء میں بیعت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر کی تھی۔اس وقت حضور کی خدمت میں ایک ہفتہ رہا۔اور ہم آپ کو جب آپ مسجد میں عموماً مغرب کی نماز کے بعد بیٹھتے تھے دباتے تھے۔یعنی ٹانگیں وغیرہ دبایا کرتے تھے۔اور آپ ہم کو منع نہیں کرتے تھے۔اور آپ کا چہرہ مبارک ایسا تھا کہ وہ شبہات جو مولوی ڈالتے تھے آپ کا چہرہ دیکھنے سے دور ہو جاتے تھے۔چنانچہ میں نے سنا ہوا تھا کہ مہدی معہود کا چہرہ ستارے کی طرح چمکتا ہو گا اور میں نے ایسا ہی پایا۔اور میرے سارے اعتراضات آپ کے چہرہ دیکھتے ہی حل ہو گئے۔اور جب آپ پر کرم دین نے دعویٰ کیا تھا اور مجسٹریٹ چند ولال کی عدالت میں دعویٰ تھا اور بہت شور تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ضرور جیل میں جائیں گے اور حضرت مسیح موعود فرماتے تھے کہ لوگ یہ افواہ اٹھا رہے ہیں کہ میں جیل میں جاؤں گا۔ہمارا خدا کہتا ہے تمہیں ایسی فتح دوں گا جیسے صحابہ کو جنگ بدر میں دی تھی اور وہ الفاظ آپ کے اب تک کانوں میں گونجتے ہیں“۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ نمبر 3 صفحہ 111 روایت حضرت غلام رسول صاحب۔غیر مطبوعہ ) حضرت رحمت اللہ صاحب احمدی پنشنز۔سنگرور ریاست جیند لکھتے ہیں کہ ”میر انام رحمت اللہ خلف مولوی محمد امیر شاہ قریشی سکنہ موضع بیر می ضلع لدھیانہ ہے۔کہتے ہیں خدا نے اپنے فضل ور حم سے مجھے چن لیا۔اور غلامی حضور سے سر فراز فرمایا ورنہ من آنم کہ من دانم۔تفصیل اس کی یہ ہے: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے چند ماہ لدھیانہ میں قیام فرمایا۔میری عمر اس وقت قریباً سترہ اٹھارہ برس کی ہو گی۔اور طالب علمی کا زمانہ تھا۔میں حضور کی خدمت اقدس میں گاہے بگاہے حاضر ہو تا۔مجھے وہ نور جو حضور کے چہرہ مبارک پر ٹپک رہا تھا نظر آیا۔جس کے سبب سے میر ا قلب مجھے مجبور کرتا کہ یہ جھوٹوں کا منہ نہیں ہے۔مگر گر دونواح کے مولوی لوگ مجھے شک میں ڈالتے۔اسی اثناء میں حضور کا مباحثہ مولوی محمد حسین بٹالوی سے لدھیانہ میں ہوا جس میں میں شامل تھا۔اس کے بعد خدا نے میری ہدایت کے لئے ازالہ اوہام کے ہر دو حصے بھیجے۔وہ سراسر نوروہدایت سے لبریز تھا۔خدا جانتا ہے کہ میں اکثر اوقات تمام رات نہیں سویا۔اگر کتاب پر سر رکھ کر غنودگی ہوگئی تو ہو گئی ورنہ کتاب پڑھتا رہا اور روتا رہا کہ خدا یہ کیا معاملہ ہے۔مولوی لوگ کیوں قرآن شریف کو چھوڑتے ہیں ؟ خدا جانتا ہے کہ میرے