خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 635 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 635

خطبات مسرور جلد ہشتم 635 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 دسمبر 2010 اس منصب کے اہل نہیں تھے۔میرا باپ حسین سے درجہ میں بہت کم تھا اور اُس کا باپ حسن حسین کے باپ سے کم درجہ رکھتا تھا۔علی اپنے وقت میں خلافت کا زیادہ حق دار تھا اور اس کے بعد بہ نسبت میرے دادا اور باپ کے حسن اور حسین خلافت کے زیادہ حقدار تھے۔اس لئے میں اس امارت سے سبکدوش ہو تاہوں۔(ماخوذ از خلافت راشده، انوار العلوم جلد 15 صفحہ 557-558) اب دیکھیں، کس طرح بیٹے نے یہ باتیں کہہ کر اپنے باپ دادا کے منہ پر طمانچہ مارا ہے۔اس لئے کہ خوف خدا تھا۔اس لئے کہ اس میں تقویٰ کی کچھ رمق تھی۔دنیا داروں کے ہاں بھی نیک اولاد اور حقیقت پسند اولاد، انصاف سے کام لینے والی اولاد پیدا ہوتی ہے۔بہر حال پھر یہ کہا کہ اب یہ تمہاری مرضی پر منحصر ہے کہ جس کی چاہو بیعت کر لو۔اس کی ماں پر دے کے پیچھے اس کی تقریر سن رہی تھی۔جب اس نے اپنے بیٹے کے یہ الفاظ سنے تو بڑے غصے سے کہنے لگی کہ کمبخت تو نے اپنے خاندان کی ناک کاٹ دی ہے اور اس کی تمام عزت خاک میں ملا دی ہے۔وہ کہنے لگا جو سچی بات تھی وہ میں نے کہہ دی ہے، اب آپ کی جو مرضی ہو مجھے کہیں۔چنانچہ اس کے بعد وہ اپنے گھر گیا۔گھر میں ہی بیٹھا رہا۔وہاں سے باہر نہیں نکلا اور چند دن گزرنے کے بعد ہی اس کی وفات ہو گئی۔تو یہ اس بات کی کتنی زبر دست شہادت ہے کہ یزید کی خلافت پر دوسرے لوگوں کی رضا تو الگ رہی ، خود اس کا اپنا بیٹا بھی متفق نہ تھا۔یہ نہیں کہ بیٹے نے کسی لالچ کی وجہ سے ایسا کیا ہو۔یہ بھی نہیں کہ اس نے کسی مخالفت کے ڈر سے ایسا کیا ہو۔بلکہ اُس نے اپنے دل میں سنجیدگی کے ساتھ غور اور فکر کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ میرے دادا سے علی کا حق زیادہ تھا اور میرے باپ سے حسن اور حسین کا حق زیادہ تھا اور میں اس بوجھ کو اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہوں۔پس معاویہ کا یزید کو مقرر کرنا کوئی انتخاب نہیں کہلا سکتا۔کسی کی ذلت کا اس سے بڑا اور کیا سامان ہو سکتا ہے کہ اولا دخو د اپنے باپ کی حقیقت ظاہر کر کے اسے کمتر ثابت کر رہی ہو۔پس حضرت امام حسین کی قربانی ہمیں بہت سے سبق دیتی ہے۔آپ نے حق کے سامنے کھڑے ہو کر دنیا میں حق پھیلا دیا۔اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے حق کو قائم فرما دیا۔ہمیں بھی دعاؤں کے ذریعے سے ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے رہنا چاہئے کہ وہ ہمیں ہمیشہ صراط مستقیم پر چلائے رکھے۔ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ حضرت مسیح کو امام حسین سے تشبیہ دی گئی ہے اور استعارہ در استعارہ کے الفاظ استعمال کئے۔اس تشبیہ سے ظاہر ہے کہ آنے والا مسیح بھی یعنی یہ مسیح موعود بھی اس تشبیہ سے حصہ لے گا۔اس پر بھی ایک لحاظ سے امام حسین کی تشبیہ صادق آتی ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ انشاء اللہ ان باتوں کو نہیں دہرائے گا۔۔خلافت کا تسلسل (ماخوذ از ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 136-137 مطبوعہ ربوہ) یہ الہی تقدیر ہے کہ وہ باتیں اب نہیں دہرائی جائیں گی جن سے اسلام کو ضعف پہنچا تھا۔لیکن ہمیں دعاؤں کی طرف بہر حال توجہ دیتے رہنا چاہئے تا کہ ہم ان باتوں سے بچے رہیں جو ایمان میں ٹھو کر کا باعث بنتی ہیں۔