خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 627 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 627

خطبات مسرور جلد ہشتم 627 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 دسمبر 2010 جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے دعاؤں کا ٹھیک محل نماز ہے۔ہم اپنی نمازوں میں خوبصورتی پیدا کریں۔اور پھر جیسا کہ میں نے کہا خاص طور پر کم از کم دو نفل جماعت کی ترقی اور مظلوم احمدیوں کے لئے ادا کریں۔ہر احمدی یہ اپنے اوپر فرض کرے۔ایک وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی کہا تھا کہ کم از کم دو نفل اپنے اوپر ضرور فرض کرو۔(ماخوذ از ملفوظات جلد چہارم صفحہ 148) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس فقرے کو ہمیشہ یاد رکھیں اور یاد رکھنا چاہئے کہ ”جب مومن کی دعا میں پورا اخلاص اور انقطاع پیدا ہو جاتا ہے پوری توجہ پیدا ہو جاتی ہے ، ہر سوچ اللہ تعالیٰ کی طرف جاتی ہے ، یار میں جب انسان نہاں ہو جاتا ہے) تو خدا تعالیٰ کو بھی اس پر رحم آجاتا ہے پس یہ اخلاص اور انقطاع پیدا کرنے کی اگر ہر احمدی کوشش کرے تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کو پہلے سے بڑھ کر قریب تر پائے گا۔یہ اخلاص اور انقطاع پیدا کرنے کے لئے یارِ نہاں میں نہاں ہونے کی ضرورت ہے ، اُس یار میں ڈوبنے کی ضرورت ہے۔اور جب ہماری یہ حالت ہو جائے گی تو دنیا والوں کے ہر شر سے ہم محفوظ ہو جائیں گے۔انشاء اللہ۔اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ ایک ایسے قلعہ میں محفوظ ہو جائیں گے جس کے ارد گرد مسلح سپاہیوں کا پہرہ ہے۔اللہ ہمیں اس اہم نکتے کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آخر میں پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اقتباس پیش کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں :۔”یا در کھو کوئی آدمی کبھی دُعا سے فیض نہیں اُٹھا سکتا جب تک وہ صبر میں حد نہ کر دے۔(جب تک وہ صبر میں حد نہ کر دے) اور استقلال کے ساتھ دُعاؤں میں نہ لگار ہے۔اللہ تعالیٰ پر کبھی بدظنی اور بد گمانی نہ کرے۔اُس کو تمام قدرتوں اور ارادوں کا مالک تصور کرے، یقین کرے پھر صبر کے ساتھ دُعاؤں میں لگار ہے۔وہ وقت آجائے گا کہ اللہ تعالیٰ اُس کی دُعاؤں کو سُن لے گا اور اسے جواب دے گا۔جو لوگ اس نسخہ کو استعمال کرتے ہیں وہ کبھی بد نصیب اور محروم نہیں ہو سکتے بلکہ یقینا وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی قدر تیں اور طاقتیں بے شمار ہیں۔اس نے انسانی تکمیل کے لئے دیر تک صبر کا قانون رکھا ہے۔پس اس کو وہ بدلتا نہیں اور جو چاہتا ہے کہ وہ اس قانون کو اس کے لئے بدل دے وہ گو یا اللہ تعالیٰ کی جناب میں گستاخی کرتا اور بے ادبی کی جرآت کرتا ہے۔پھر یہ بھی یادر کھنا چاہیے کہ بعض لوگ بے صبری سے کام لیتے ہیں اور مداری کی طرح چاہتے ہیں کہ ایک دم میں سب کام ہو جائیں۔میں کہتا ہوں کہ اگر کوئی بے صبری کرے تو بھلا بے صبری سے خدا تعالیٰ کا کیا بگاڑے گا۔اپنا ہی نقصا ن کرے گا۔بے صبری کر کے دیکھ لے وہ کہاں جائے گا“۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 151۔جدید ایڈیشن) اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیں اپنے آگے صبر و استقامت دکھاتے ہوئے، صبر و استقامت دکھاتے ہوئے جھکائے رکھے اور دعائیں کرنے میں نہ ہم کبھی تھکیں، نہ ماندہ ہوں۔کبھی صبر کا دامن ہمارے ہاتھ سے نہ چھوٹے۔صبر کا