خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 613 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 613

خطبات مسرور جلد ہشتم 613 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 نومبر 2010 سختی سے روک دیا ہے۔حضور فرمائیں تو اب بھی بھاگ کر ڈاکخانے سے لے آؤں ؟ حضرت صاحب مسکرائے اور فرمانے لگے کہ ان بے رنگ خطوں میں سوائے گالیوں کے کچھ نہیں ہوتا۔اور یہ خط گمنام ہوتے ہیں۔نام بھی نہیں لکھا ہوتا۔اگر یہ لوگ اپنا پتہ لکھ دیں تو ہم انہیں سمجھا سکیں مگر شاید یہ لوگ ڈرتے ہیں کہ ہم ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی نہ کریں۔حالانکہ ہمارا کام مقدمہ کرنا نہیں ہے۔کہتے ہیں اس دن کے بعد سے پھر میں نے بے رنگ خط وصول کرنے چھوڑ دیئے۔(ماخوذ از سیرت المہدی جلد اول حصہ دوم روایت نمبر 455 صفحہ 434 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ رسول بی بی صاحبہ بیوہ حافظ حامد علی صاحب نے بواسطہ مولوی عبد الرحمن صاحب جٹ مولوی فاضل مجھ سے بیان کیا کہ بعض دفعہ مرزا نظام الدین کی طرف سے کوئی رذیل آدمی اس بات پر مقرر کر دیا جاتا تھا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دے۔( اُن کے چچا زاد تھے جو اسلام سے بھی برگشتہ تھے۔وہ کسی کو مقرر کر دیا کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دو۔) چنانچہ بعض دفعہ ایسا ہوا کہ ساری رات وہ شخص گالیاں نکالتارہتا تھا۔(جس کو مقرر کیا گیا ہے ، وہ آپ کے گھر کے سامنے کھڑا ہے ، ساری رات اونچی اونچی گالیاں نکالتا چلا جا رہا ہے)۔اور جب سحری کا وقت ہو تا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دادی صاحبہ کو کہتے کہ اب اس کو کھانے کو کچھ دو کہ یہ ساری رات گالیاں نکال نکال کے تھک گیا ہو گا۔اس کا گلا خشک ہو گیا ہو گا۔وہ کہتی ہیں کہ میں حضرت صاحب کو کہتی کہ ایسے کمبخت کو کچھ نہیں دینا چاہئے تو آپ فرماتے ہم اگر کوئی بدی کریں گے تو خدا دیکھتا ہے اور ہماری طرف سے کوئی بات نہیں ہونی چاہئے۔(ماخوذ از سیرت المہدی جلد دوم حصہ چہارم۔روایت نمبر 1130 صفحہ نمبر 102-103 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) آپ کے دل میں کوئی جلانے والی آگ نہیں مولوی عبد الکریم صاحب بیان کرتے ہیں کہ مجلس میں آپ کسی دشمن کا ذکر نہیں کرتے اور جو کسی کی تحریک سے ذکر آجائے تو بُرے نام سے یاد نہیں کرتے۔(اوّل تو مجلس میں کسی دشمن کا ذکر ہی نہیں کرتے اور اگر ذکر آبھی جائے تو کبھی یہ نہیں ہوا کہ اس کو کسی برے نام سے پکارا ہو)۔یہ ایک بین ثبوت ہے کہ آپ کے دل میں کوئی جلانے والی آگ نہیں۔ورنہ جس طرح کی ایذا قوم نے دی ہے اور جو سلوک مولویوں نے کیا ہے اگر آپ اسے واقعی دنیا دار کی طرح محسوس کرتے تو رات دن گڑھتے رہتے۔اور ہیر پھیر کر انہی کا مذکور در میان میں لاتے۔اور یوں حواس پریشان ہو جاتے اور کاروبار میں خلل آجاتا۔زٹلی جیسا گالیاں دینے والا عرب کے مشرک بھی حضور سید سرور عالم صلی علیکم کے مقابل نہ لا سکے۔مگر میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ ناپاک پرچہ اوقات گرامی میں کوئی بھی خلل کبھی بھی ڈال نہیں سکا۔تحریر میں ان موذیوں کا بر محل ذکر کوئی دیکھے تو یہ شاید خیال کرے کہ رات