خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 608 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 608

خطبات مسرور جلد ہشتم 608 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 نومبر 2010 حضرت مولوی عبد الکریم صاحب بیان فرماتے ہیں کہ ایک روز ایک ہندوستانی جس کو اپنے علم پر بڑا ناز تھا اور اپنے تئیں جہاں گرد اور سرد و گرم زمانہ دیدہ و چشیدہ ظاہر کرتا تھا ( اپنے آپ کو یہ سمجھتا تھا کہ میں دنیا میں بہت پھرا ہوا ہوں اور بڑا زمانہ دیکھا ہوا ہے اور ہر چیز کا مجھے علم ہے۔) ہماری مسجد میں آیا اور حضرت سے آپ کے دعوے کی نسبت بڑی گستاخی سے باب کلام وا کیا۔تھوڑی گفتگو کے بعد کئی دفعہ کہا۔آپ اپنے دعویٰ میں کاذب ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منہ پر کہتا تھا کہ آپ اپنے دعوی میں جھوٹے ہیں اور میں نے ایسے مکار بہت دیکھے ہیں۔( نعوذ باللہ )۔اور میں تو ایسے کئی بغل میں دبائے پھرتا ہوں۔غرض ایسے ہی بیباکانہ الفاظ کہے۔مگر آپ کی پیشانی پر بل تک نہ آیا۔بڑے سکون سے سنا کئے ، اور پھر بڑی نرمی سے اپنی نوبت پر کلام شروع کیا۔کسی کا کلام کیسا ہی بیہودہ اور بے موقع ہو اور کسی کا کوئی مضمون نظم میں یا نثر میں کیسا ہی بے ربط اور غیر موزوں ہو ، آپ نے سننے کے وقت یا بعد خلوت میں کبھی نفرت و ملامت کا اظہار نہیں کیا۔( نہ سننے کے وقت، نہ بعد میں۔کبھی علیحدگی میں اس شخص کے بارہ میں نفرت یا ملامت کا اظہار نہیں کیا)۔کہتے ہیں بسا اوقات بعض سامعین اس دل خراش لغو کلام سے گھبرا اٹھے اور آپس میں نفرین کے طور پر کانا پھوسی کی ہے۔اور مجلس کے برخاست ہونے کے بعد تو ہر ایک نے اپنے اپنے حوصلے اور ارمان بھی نکالے ہیں کہ یہ کیا بیہودگی ہو رہی تھی۔(جو بھی غصہ آپس میں باتیں کر کے نکال سکتے تھے نکالتے رہے۔مگر مظہر خدا کے حلیم اور شاکر ذات نے کبھی بھی ایسا کوئی اشارہ کنایہ نہیں کیا۔یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اشارہ بھی کبھی بات نہیں کی کہ کون مجھے کیا کہہ گیا تھا ؟ (ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود از مولانا عبد الکریم صاحب سیالکوٹی۔صفحہ 44) صبر کرنا چاہیے گالیوں سے کیا ہوتا ہے پھر شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ہی بیان فرماتے ہیں کہ 29 جنوری 1904ء کا یہ واقعہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کے حضور ایک گالیاں دینے والے اخبار کا تذکرہ آیا کہ فلاں اخبار جو ہے بڑی گالیاں دیتا ہے۔آپ نے فرمایا صبر کرنا چاہئے۔ان گالیوں سے کیا ہوتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ ایسا ہی آنحضرت صلی ایم کے وقت کے لوگ آپ کی مذمت کیا کرتے تھے اور آپ کو نعوذ باللہ مذ تم کہا کرتے تھے۔تو آپ ہنس کر فرمایا کرتے تھے کہ میں ان کی مذمت کو کیا کروں۔میر انام تو اللہ تعالیٰ نے محمد رکھا ہوا ہے ( ملا لی )۔فرمایا کہ اسی طرح اللہ نے مجھے بھیجا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اور میری نسبت فرمایا ہے ، يَحْمَدُكَ الله مِنْ عَرْشم یعنی اللہ اپنے عرش سے تیری حمد کرتا ہے، تعریف کرتا ہے اور یہ وحی براہین احمدیہ میں موجود ہے۔ماخوذاز سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مصنفہ شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی صفحہ 450) حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی پھر لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر بالمشافہ زبانی گندے حملے ہی نہ ہوتے تھے ( یعنی کہ آمنے سامنے سے ہی گندے حملے نہیں ہوتے تھے ) اور آپ کی جان پر