خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 601 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 601

خطبات مسرور جلد ہشتم 601 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 نومبر 2010 ہو۔جنت کی نعمت کبھی زائل نہیں ہو گی۔لبید بن ربیعہ نے کہا کہ اے قریش کے گروہ ! تم میں سے کوئی بھی کبھی مجھے تکلیف نہیں دیتا تھا۔یہ طریق تم میں کب سے شروع ہو گیا ہے۔ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ یہ شخص اپنے ساتھیوں سمیت ایک بیوقوف ہے جس نے ہمارے دین سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔اس لئے تو اس کی بات سے اپنے دل میں کوئی برا نہ محسوس کر۔حضرت عثمان نے اس کا جواب دیا یہاں تک کہ معاملہ بڑھ گیا اور ایک شخص کھڑا ہوا اور آپ کی آنکھ پر مکا مارا اس کی وجہ سے آپ کی آنکھ باہر نکل آئی۔ولید بن مغیرہ پاس بیٹھا یہ سب دیکھ رہا تھا۔اس نے کہا اللہ کی قسم ! اے میرے بھائی کے بیٹے ! اگر تو ایک روک والی امان میں ہو تا تو تیری آنکھ کو جو صدمہ پہنچا ہے اس سے وہ صحیح سلامت رہتی۔حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! میری درست آنکھ بھی اسی سلوک کی محتاج ہے جو اس کی ساتھی کے ساتھ ہوا ہے۔اور اے ابو عبد الشمس ! یقینا میں اس ذات کی پناہ میں ہوں جو تم سے زیادہ معزز ہے اور زیادہ قادر ہے۔ولید بن مغیرہ نے اسے کہا کہ آؤ میرے بھائی کے بیٹے اگر تم چاہو تو میری پناہ میں واپس آسکتے ہو۔لیکن حضرت عثمان نے انکار کر دیا۔(السيرة النبوية لابن ہشام - قصة عثمان بن مظعون فی رڈ جوار الولید - صفحہ 269۔مطبوعہ بیروت۔ایڈیشن 2001ء) آنحضرت صلی ا ہم نے عشق و محبت اور صبر کے نئے زاویے صحابہ کو دیئے۔واقعہ رجیع میں جن صحابہ کو قید کیا گیا تھا ان میں سے ایک حضرت زید بن دشنہ بھی تھے۔صفوان بن امیہ نے ان کو خریدا تھا تا کہ اپنے باپ کے بدلے ان کو قتل کر سکے۔جب حضرت زید کو قتل کرنے کے لئے تنعیم لے جایا گیا تو وہاں ابو سفیان نے کہا اے زید ! میں تجھے اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا تو یہ پسند نہیں کرے گا کہ محمد (صلی ی م ) تیری جگہ یہاں قتل کئے جائیں اور تو اپنے گھر والوں میں ہو۔حضرت زید نے جواب دیا اللہ کی قسم! میں تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ محمد صلی ال یکم کو اس جگہ جہاں پر وہ اس وقت ہیں کوئی کانٹا چبھے اور میں اپنے گھر والوں میں بیٹھا ہوا ہوں۔ابو سفیان نے کہا جس طرح محمد (صلی یک) کے اصحاب محمد (صل اللہ تم سے محبت کرتے ہیں ایسی محبت میں نے کسی کو کسی شخص سے کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔(اسد الغابة - جلد 2 صفحہ 147 " زید بن الدمية“۔دار الفکر بیروت 2003ء) پھر اس زمانے کی جو مائیں تھیں وہ کس طرح اپنے بچوں کو صبر کی اور حوصلہ کی تلقین کیا کرتی تھیں۔ایک روایت میں آتا ہے کہ جس دن حضرت عبد اللہ بن زبیر شہید کئے گئے اُس روز وہ اپنی والدہ کے پاس تشریف لائے۔والدہ نے حضرت زبیر سے کہا کہ اے میرے بیٹے! قتل کے خوف سے ہر گز کوئی ایسی شرط قبول نہ کر لینا جس میں تمہیں ذلت برداشت کرنی پڑے۔اللہ کی قسم! عزت کے ساتھ تلوار کھا کر مر جانا اس سے بہتر ہے کہ ذلت کے ساتھ کوڑے کی مار بر داشت کر لی جائے۔(اسد الغابة - جلد 3 صفحہ 139 - " عبد اللہ بن زبیر “۔دار الفکر بیروت 2003ء) اس روایت سے ماں کے عزم اور غیرت ایمانی کا بھی پتہ چلتا ہے جنہوں نے اپنے بیٹے کو یہ تلقین کی کہ