خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 600 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 600

خطبات مسرور جلد ہشتم 600 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 نومبر 2010 حضرت خباب بن ارت لوہار تھے اور تلواریں بنایا کرتے تھے۔رسول اللہ صلی الیکم ان کی تالیف قلب کے لئے ان کے پاس آیا کرتے تھے۔اس بات کا پتہ ان کی مالکن اتم انمار کو لگ گیا۔وہ ایک لوہا گرم کر کے آپ کے سر پر رکھ دیا کرتی تھی۔حضرت خباب نے نبی کریم صلی الی یکم کی خدمت میں اس کا ذکر کیا۔آپ نے دعا کی: اللهم انصر خبابا۔اے اللہ ! خباب کی مدد فرما۔اس کے نتیجے میں آپ کی مالکہ اتم انمار کو سر میں ایک تکلیف لاحق ہو گئی جس سے وہ کتوں کی طرح چیخنے لگتی تھی۔اور اس کا علاج وہاں کے جو حکیم تھے انہوں نے یہ بتایا کہ لوہا گرم کر کے اس کے سر پر رکھو۔حضرت خباب کہتے ہیں کہ میں پھر اس کے سر کو گرم لوہے سے داغا کر تا تھا۔(اسد الغابة- جلد اول۔خباب بن الارت باب الخاء والباء صفحہ 675۔دارالفکر بیروت۔2003ء) اللہ تعالیٰ نے اس طرح بھی بدلہ لیا اور صبر کا اس طرح انتقام لیا۔حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب رسول اللہ صلی اللی نیلم کے اصحاب کو آزمائش میں دیکھا جبکہ وہ ولید بن مغیرہ کی پناہ میں صبح و شام امن میں رہتے تھے۔تو انہوں نے سوچا کہ اللہ کی قسم ایک مشرک شخص کی پناہ میں میر ا صبح و شام بسر کر نایقینا میرے نفس کی کسی بڑی خرابی کی وجہ سے ہے۔کیونکہ میرے ساتھی اور دینی بھائی تو اللہ تعالیٰ کی خاطر مصائب اور تکالیف کو برداشت کر رہے ہیں۔اس پر آپ ولید بن مغیرہ کی طرف نکلے اور اسے کہا کہ اے ابو عبد الشمس ! تمہاری پناہ پوری ہو گئی۔میں تمہاری پناہ واپس کر تا ہوں۔اس نے پوچھا اے میرے بھائی کے بیٹے ! کیوں ؟ کیا میری قوم میں سے کسی نے تمہیں تکلیف پہنچائی ہے ؟ آپ نے کہا نہیں۔لیکن میں اللہ کی پناہ کو پسند کرتا ہوں۔اور میں اس کے علاوہ کسی اور کی پناہ میں نہیں آنا چاہتا۔ولید نے کہا کہ تم مسجد میں میرے ساتھ چلو یعنی کعبہ میں اور جس طرح میں نے تمہیں اعلانیہ طور پر پناہ دی تھی اسی طرح تم بھی اعلانیہ طور پر میری پناہ مجھے واپس لوٹا دو۔حضرت عثمان بن مظعون کہتے ہیں کہ ہم مسجد پہنچے اور ولید نے کہا کہ یہ عثمان ہے اور میری امان مجھے لوٹانے آیا ہے۔حضرت عثمان نے کہا۔اس نے سچ کہا ہے۔میں نے اسے امان کو پورا کرنے والا اور معزز پایا ہے۔لیکن میں اللہ کے علاوہ کسی اور کی پناہ میں آنا نہیں چاہتا۔اس لئے میں نے اس کی امان اسے لوٹا دی ہے۔پھر حضرت عثمان چلے گئے۔لبید بن ربیعہ ایک مجلس میں قریش کے لوگوں کو اپنے اشعار سنا رہا تھا۔حضرت عثمان بن مظعون بھی اس کے ساتھ بیٹھ گئے ، جب لبید نے یہ کہا کہ الَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ یعنی اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔جس پر حضرت عثمان بن مظعون نے کہا تم نے سچ کہا۔پھر لبید نے کہا وَكُلَّ نَعِيْمٍ لَا مَحَالَةَ زَائِلُ اور ہر نعمت لا محالہ ختم ہونے والی ہے۔اس پر حضرت عثمان بن مظعون نے کہا کہ تم جھوٹ کہتے