خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 599
599 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 نومبر 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم نہیں اللہ کی قسم! میں نے ایسا ہر گز نہیں کیا۔آپ نے سارا واقعہ ان لوگوں کو سنایا تو اس پر انہوں نے کہا کہ اگر تو ایسا ہے جیساتو بیان کرتی ہے تو تمہارا دین سچا ہے۔اس کے بعد انہوں نے اپنے پانی کے مشکیزوں میں دیکھا تو وہاں اتنا پانی تھا جتنا انہوں نے چھوڑا تھا۔اسی بات پر وہ لوگ اسلام بھی لے آئے۔الاصابة في تمييز الصحابة- جلد 8- كتاب النساء فيمن عرف الكنية من النساء حرف الشین ”ام شریک “صفحہ 418-417) تو یہ بھی ایک عجیب نظارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صبر کا اجر اسی وقت دیا۔تین دن کی بھوک پیاس کو اپنے اس پیار کے انداز میں مٹایا اور خود انتظام فرما دیا۔پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابو فگیہ ، یہ بنو عبد الدار کے غلام تھے ، جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو وہ لوگ آپ کو تکلیفیں دیتے تھے تا کہ اسلام سے پھر جائیں۔مگر آپ انکار کر دیا کرتے تھے۔بنو عبد الدار سخت گرمی میں دو پہر کے وقت آپ کے کپڑے اتار کر اور لوہے میں جکڑ کر کھڑا کر دیتے تھے۔پھر ایک چٹان لا کر آپ کی پشت پر رکھ دیتے تھے۔اس اذیت کی وجہ سے آپ کے حو اس گم ہو جاتے تھے۔لیکن یہ نہیں ہوا کہ اپنے صبر و استقامت میں انہوں نے لغزش آنے دی ہو۔الاستیعاب جلد 4 کتاب الکنی۔باب الفاء ابو کی۔صفحہ 293۔دار لكتب العلمية- بيروت 2002ء) حضرت بلال کا واقعہ ہم سنتے رہتے ہیں۔امیہ بن خلف کے حبشی غلام تھے۔امیہ ان کو سخت گرمی میں دو پہر کے وقت باہر لے جاتا اور زمین پر لٹا دیتا اور بڑے بڑے پتھر ان کے سینے پر رکھ کر کہتا۔لات اور عربی کی پرستش کر اور محمد کا انکار کر۔ورنہ اسی طرح عذاب دے کر مار دوں گا۔بلال کہتے احد احد کہ اللہ ایک ہے ، اللہ ایک ہے۔ایک روز حضرت ابو بکر نے ان پر یہ جو روستم دیکھا تو امیہ بن خلف کو ایک غلام دے کر اس کے بدلے میں حضرت بلال کو خرید کر آزاد کر دیا۔السيرة النبوية لابن ہشام۔ذکر عدوان المشركين على المستضعفين ممن اسلم صفحہ 235ء) پھر روایات میں ایک مثال حضرت خباب کی بھی آتی ہے۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ایک دفعہ حضرت خباب ان کی مجلس میں حاضر ہوئے تو انہوں نے حضرت خباب کو بلا کر اپنی خاص مسند پر بٹھایا اور فرمایا کہ خباب ! آپ اس لائق ہیں کہ میرے ساتھ اس مسند پر بیٹھیں۔میں نے نہیں دیکھا کہ آپ سے بڑھ کر اس جگہ میرے ساتھ بیٹھنے کا کوئی مستحق ہو سوائے بلال کے۔اُنہوں نے کہا اے امیر المومنین ! بے شک بلال بھی حقدار ہیں لیکن بلال کو مشرکین کے ظلم سے بچانے والے موجود تھے۔لیکن میرا تو کوئی بھی نہیں تھا جو مجھے ان کے ظلم سے بچاتا۔ایک دن مجھ پر ایسا بھی آیا کہ مجھے کافروں نے پکڑ لیا اور آگ جلا کر مجھے اس میں جھونک دیا۔پھر ان میں سے ایک نے میرے سینے پر پاؤں رکھ دیا۔پھر آپ نے کپڑا اٹھایا۔حضرت عمرؓ کو اپنی پشت دکھائی تو وہاں جلد پر جلنے کی وجہ سے (کھال جلنے کی وجہ سے اور چربی جلنے کی وجہ سے) سفید لکیروں کے نشانات تھے۔( الطبقات الکبری لابن سعد - جزء 3 - صفحہ 88 - الطبقة الاولى على السابقة فى الاسلام خباب بن الارت)