خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 592 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 592

خطبات مسرور جلد ہشتم 592 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 نومبر 2010 کروں گا اور جنت میں بھی ایسے بالا خانے ملیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔اور یہ جنتیں دائی انعامات اور دائمی زندگی کی علامت ہیں۔اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ بہترین اجر ہے جو ہم ایمان میں کامل اور اللہ تعالیٰ کی خاطر ہر عمل کرنے والے کو دیتے ہیں۔اور یہ لوگ جو بہترین اور دائگی جنتوں کا اجر پانے والے ہیں ، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے انتہائی صبر سے قربانیاں دیں اور اپنے ایمانوں کو سلامت رکھا۔اپنے رب پر کامل تو کل رکھتے ہوئے وہ اس یقین پر قائم تھے کہ اگر ہم نے صبر کے نمونے دکھاتے ہوئے اپنے ایمان کی حفاظت کی اور ہر عمل خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے بجالاتے رہے تو اللہ تعالیٰ جو سچے وعدوں والا ہے ، ضرور اجر سے نوازے گا۔پس یہ ایمان میں مضبوطی اور اعمالِ صالحہ بجالانے کی طرف توجہ جیسا کہ میں نے کہا اُن صحابہ میں آنحضرت صلی کم کی تربیت اور قوت قدسی کی وجہ سے پید اہوئی۔صبر اور آنحضرت علی الم کا مبارک اسوہ آج میں صبر کے حوالے سے چند احادیث پیش کروں گا جن سے پتہ چلتا ہے کہ مومنین میں اس خُلق کے پیدا کرنے کے لئے آنحضرت صلی الی عالم نے ہمیں کیا اسلوب اور طریقے سکھائے۔اور پھر صحابہ نے جو ایمان میں ہر دن ترقی کرتے چلے گئے یا ترقی کرتے چلے جانے والے تھے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر کس طرح صبر و استقامت کے اعلیٰ معیار قائم کئے۔آنحضرت صلی اللہ ہم نے عام روز مرہ کے معاملات سے لے کر دشمنوں کے مقابلہ تک میں صبر دکھانے کے قرینے سکھائے اور یہ سکھاتے ہوئے ہمیں نصائح فرمائیں کہ کس وقت ہمیں کیا کرنا ہے ؟ آج میں سب سے پہلے جو حدیث پیش کروں گا اس کا تعلق دشمنوں کے ساتھ نہیں بلکہ عائلی زندگی کے صبر کے ساتھ ہے کہ خاوند اور بیوی کو عائلی زندگی کس طرح گزارنی چاہئے۔کئی عورتوں کے بھی خطوط آتے ہیں اور اگر ملاقات کا موقع مل جائے تو اس میں بھی شکایات کرتی ہیں کہ ہماری بیٹیاں ہیں مثلاً اور بیٹا کوئی بھی نہیں جس کی وجہ سے خاوند اور سسرال مستقل طعنہ دیتے رہتے ہیں۔گھریلو زندگی اجیرن ہوئی ہوئی ہے۔یا بیٹیاں خود بھی لکھ دیتی ہیں کہ ہمارے باپ کا ہمارے ساتھ بیٹی ہونے کی وجہ سے نیک سلوک نہیں ہے اور ہماری زندگی مستقل اذیت میں ہے۔اس بارے میں آنحضرت صلی علیہ کم کی ایک حدیث ایسی ہے جو لوگوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔کیونکہ بہت سارے ایسے ہیں جو دینی علم بھی رکھتے ہیں، جماعتی کام بھی کرنے والے ہیں لیکن پھر بھی گھروں میں ان کے سلوک اچھے نہیں ہوتے۔اس حدیث کے سننے کے بعد میں سمجھتا ہوں کہ کوئی انسان جس میں ہلکی سی بھی ایمان کی رمق ہو ، اپنی بیٹیوں کو بیوی یا بیٹیوں کے لئے طعنہ کا ذریعہ نہیں بنائے گا۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الی یکم نے فرمایا کہ جو صرف بیٹیوں کے ذریعے سے آزمائش میں ڈالا گیا اور اس نے اس پر صبر کیا تو وہ بیٹیاں اس کے اور آگ کے درمیان روک ہوں گی۔(سنن ترمذی۔کتاب البر والصلة باب ما جاء فى النفقة على البنات والاخوات حدیث: 1913)