خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 586
خطبات مسرور جلد ہشتم 586 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 نومبر 2010 کھیلتے برداشت کر لو گے تو آخری زندگی میں اللہ تعالیٰ کے انعامات کے وارث بن جاؤ گے۔یقیناً یہ مشکلات اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق اللہ تعالیٰ سے ملانے کا باعث بنیں گی۔اللہ تعالیٰ عاجزی کرنے والوں کے بارے میں مزید تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ الَّذِيْنَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلْقُوا رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ راجِعُونَ (البقرة:47) یعنی کہ عاجزی دکھانے والے اور صبر اور استقامت دکھانے والے اور دعا کرنے والے یہ وہ لوگ ہیں جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں اور یہ کہ اُسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔گویا اس آیت اور پہلی آیت کا مضمون یہ بنا کہ صبر اور استقامت دکھانے والے اور خدا تعالیٰ سے اپنے معاملات میں مددمانگنے والے ، خوشی اور غمی میں اس واحد و یگانہ کی طرف جھکنے والے وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ عاجزی دکھاتے ہیں۔اور اس عاجزی کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے انعامات کے وارث ٹھہرتے ہیں۔کسی قسم کے تکبر کی بو ان میں نہیں آتی۔اس دنیا کی زندگی میں بھی اُخروی زندگی کے حصول کے لئے وہ کوشش کرتے رہتے ہیں۔یعنی ایک مومن دنیا داروں کی طرف سے کھڑے کئے ہوئے مصائب اور مشکلات سے بچنے کے لئے خدا تعالیٰ کے حضور عاجزی سے جھکتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی مدد کا طلب گار ہو تا ہے۔اس کا صبر ، اس کی دعائیں انہیں پھر عاجزی میں مزید بڑھاتی ہیں تا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مزید فضلوں کا وارث بنتا چلا جائے۔ان کے پائے استقلال میں کبھی لغزش نہیں آتی۔اگر اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اس زمانے میں دین کے لئے جنگ منع ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آکر یہ اعلان فرمایا تو اپنی جانیں قربان کر دیتے ہیں لیکن اپنے صبر و استقلال اور خد اتعالیٰ سے تعلق پر حرف نہیں آنے دیتے۔کیونکہ ان کو یہ یقین ہوتا ہے کہ یہ دنیا عارضی ہے اور مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ سے ملنا ہے۔اس لئے اس کے احکام پر عمل ضروری ہے۔اللہ کی جو خواہش ہے اور اس کے بھیجے ہوئے فرستادے نے جو ہمیں بتایا ہے اُس پر عمل کرناضروری ہے۔ہم جان تو دے سکتے ہیں لیکن اُن حکموں سے سر موہٹ نہیں سکتے۔پس یہاں اُن نام نہاد جہادی تنظیموں اور شدت پسندوں کو بھی پیغام ہے جو اپنے زعم میں اسلام کا نظام رائج کرنے کے لئے دہشت گردی اور خود کش حملے کر کے دنیا کا سکون برباد کر رہے ہیں، معصوموں کو قتل کر رہے ہیں کہ تمہارے یہ عمل اللہ تعالیٰ کی نظر میں مقبول نہیں ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ سے تعلق کا دعوی ہے تو معصوم جانوں کو ختم کرنے کے بعد فخر سے یہ اعلان نہ کرو کہ ہمارا کام ہے جو ہم نے کیا ہے۔بلکہ کوشش یہ ہو کہ ہم نے عاجزی اختیار کرتے رہنا ہے اور صبر اور دعا کا دامن ہاتھ میں پکڑنا ہے۔اپنی برتری ثابت کرنے کے لئے ملکی قانون کو اپنے تابع نہیں کرنا یا اس کے لئے کوشش نہیں کرنی۔یہ تو متکبر لوگوں کی نشانی ہے اور متکبروں کی اللہ تعالیٰ کبھی اعانت اور مدد نہیں فرماتا۔آج یہ اعزاز یہ سوچ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک احمدی کی ہے اور ایک احمدی کو ہی حاصل ہے کہ عاجز بنتے ہوئے خدا تعالیٰ کی مدد کی تلاش میں رہتا ہے۔عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتا ہے۔عاجزانہ راہیں اختیار کرتے ہوئے نیکیوں میں قدم آگے بڑھاتا ہے۔اور کبشِّرِ الصُّبِرِينَ (البقرة:156)