خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 580
خطبات مسرور جلد ہشتم 580 46 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 نومبر 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 نومبر 2010ء بمطابق 12 نبوت 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ إِنَّ اللهَ مَعَ الصُّبِرِينَ (البقرة: 154) اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو، اللہ سے صبر اور صلوۃ کے ساتھ مدد مانگتے رہو۔یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔الہی جماعتوں کو اپنے مقاصد کے حصول کے لئے قرآن کریم نے جو حکم فرمایا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف مستقل مزاجی سے ہر وقت جھکے رہنا ہے۔یہ صبر اور دعا ہے جو مومنین کو کامیابیاں بخشتی ہے۔یہ اصول اسلام سے پہلے کے تمام مذاہب نے دیا تھا ، تمام انبیاء نے بھی بتایا تھا اور آنحضرت صلی اللہ کریم نے بھی یہی سبق ہمیں دیا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ تعلیم دی جس کو آپ نے پھیلایا۔ہم مسلمانوں کو یہی حکم ہے کہ تمہاری کامیابیاں صبر اور دعا سے ہی حاصل ہوتی ہیں۔اس کے بغیر ، اس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں جس سے تم اپنے مقصد کا حصول کر سکو۔قرآنِ کریم میں مختلف آیات میں صبر کے حوالے سے جو توجہ دلائی گئی ہے یا تلقین کی گئی ہے ، اس کے مطابق صبر کی تعریف یہ ہو گی کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جو تکالیف آئیں یا جن تکالیف کا سامنا کرنا پڑے تو کسی قسم کا شکوہ زبان پر نہ لاؤ۔تاریخ انبیاء سے ثابت ہے کہ خود انبیاء اور ان کے ماننے والوں کو تکالیف کا سامنا کرنا پڑا اور کرنا پڑتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ کم سے زیادہ اور کون خدا تعالیٰ کا پیارا ہو سکتا ہے۔لیکن آپ کو اور آپ کے ماننے والوں کو جن تکالیف سے گزرنا پڑا وہ ظاہر وباہر ہیں۔لیکن آپ نے اپنے صحابہ کی ایسے رنگ میں تربیت فرمائی تھی کہ شکوہ تو ڈور کی بات ہے اُن پر جب کبھی تکالیف آئیں یا جنگیں ٹھونسی گئیں یا کسی بھی قسم کے ظلم کئے گئے تو صبر اور دعا کے ہتھیار ہوتے تھے جو انہوں نے استعمال کئے۔یہ قدرتی بات ہے کہ جب لمبا عرصہ تکلیفوں اور سختیوں کی زندگی سے گزرنا پڑے تو ایک انسان ہونے کی وجہ سے اس تکلیف کے دور سے جب انسان گزرتا ہے تو وہ پریشان بھی ہوتا ہے کہ کب وہ زمانہ آئے گا جب ہمیں ان تکلیفوں اور سختیوں سے نجات ملے گی۔کب ہم فتحیاب ہوں گے۔کب ہمارا دشمن