خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 567 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 567

خطبات مسرور جلد ہشتم 567 45 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 05 نومبر 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 05 نومبر 2010ء بمطابق 05 نبوت 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان آیات کی تلاوت فرمائی: الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ ثُمَّ لَا يُتَّبِعُونَ مَا انْفَقُوا مَنَّا وَ لَا أَذًى لَّهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَاهُمْ يَحْزَنُونَ (البقره: 263) الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ بِأَلَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَ عَلَانِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة: 275) اور وہ لوگ جو اپنے اموال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔پھر جو وہ خرچ کرتے ہیں اس کا احسان جتاتے ہوئے یا تکلیف دیتے ہوئے پیچھا نہیں کرتے ، ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر کوئی خوف نہیں ہو گا اور نہ وہ غم کریں گے۔انفاق فی سبیل اللہ پھر فرمایا۔وہ لوگ جو اپنے اموال خرچ کرتے ہیں رات کو بھی اور دن کو بھی، چھپ کر بھی اور کھلے عام بھی، تو ان لوگوں کے لئے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر کوئی خوف نہیں ہو گا اور نہ وہ غم کریں گے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں شروع سے آخر تک متعدد جگہ مؤمنین کو انفاق فی سبیل اللہ کی طرف توجہ دلائی اور مختلف مثالوں اور مختلف طریقوں سے بتایا کہ ایک مومن اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر کے کیا کیا فوائد حاصل کر سکتا ہے؟ لیکن شرط یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں یہ قربانی خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہو ، نہ کہ کوئی اور مقصد ہو۔جیسا کہ ایک جگہ فرماتا ہے۔وَمَا تُنْفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللهِ (البقرة: 272) اور تم اللہ کی رضا کے حصول کے علاوہ کبھی خرچ نہیں کرتے۔پس اگر خرچ کرنے والا حقیقی مومن ہے تو وہ خرچ کرنے سے پہلے خدا تعالیٰ کی مرضی دیکھتا ہے اور ان چیزوں پر خرچ نہیں کرتا جن پر خرچ کرنے سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل نہ ہو۔پس اگر ہم اس نقطے کو سمجھ